اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

روحانی پیشواء  آستانہ عالیہ پیر آف سیال شریف خواجہ محمد حمیدالدین سیالوی سپرد خاک 

datetime 18  ستمبر‬‮  2020 |

سرگودھا(این این آئی)سرگودھا کے روحانی پیشواء  آستانہ عالیہ پیر آف سیال شریف خواجہ محمد حمیدالدین سیالوی انتقال کرگئے جن کو آستانہ عالیہ سیال شریف میں نماز جنازہ کے بعد سپردخاک کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق سرگودھا کے نواح میں آستانہ عالیہ سیال شریف کے سجادہ نشین پیر خواجہ محمد حمیدالدین سیالوی علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ان کی طبیعت اچانک خراب ہونے پر

سرگودھا ایک نجی ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں آ?ی سی یو میں ان کو طبی امداد دی جارہی تھی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔جن کی عمر 85 برس تھی جو 1936 میں سیال شریف میں پیدا ہوئے ۔جو اپنے والد شیخ الاسلام خواجہ محمد قمرالدین سیالوی کے وصال کے بعد 1982میں سجادہ نشیں آستانہ عالیہ سیال شریف بنے اور مسلم لیگ ن سے وابستہ ہوتے ہوئے۔نواز شریف کی پہلی حکومت 1988سے 1991 کے دوران ن لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب کیا گیا۔ان کے چھوٹے بھائی غلام نصیرالدین سیالوی رکن صوبائی اسمبلی کامیاب ہو کر وزیر اوقاف رہے۔پیر محمد حمیدالدین سیالوی نے نواز شریف حکومت کے خلاف ختم نبوت کے مسئلہ پر 2017میں ملک گیر تحفظ ختم نبوت تحریک کی قیادت  کی اور حالیہ الیکشن میں تحریک انصاف کی حمایت کی اور پارٹی کے سربراہ عمران خان ان سے ملاقات کے لئے آستانہ سیال شریف آئے ۔پیر حمیدالدین سیالوی کے انتقال کی خبر سن کر ملک بھر سے مریدین سیال شریف کا رخ کیا جبکہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف،وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور صدر مملکت ممنون   سمیت تمام سیاسی و سماجی شخصیات نے  پیر آف سیال شریف کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کے صاحبزادے محمد قاسم سیالوی اور خواجہ ضیاء الحق سیالوی و دیگر پسماندگان سے اظہار تعزیت اور مرحوم دعائے مغفرت کرتے ہوئے اسے بڑا دینی خلا قرار دیا اور کہا کہ ان کی مزہبی و ملی خدمات کو ہمشہ یاد رکھا جائے گا جو ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔مرحوم کو آستانہ عالیہ سیال شریف نماز جنازہ کے بعد سپردخاک کر دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…