اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

میں صرف چیک کر رہا تھا کہ پولیس گرفتاری کیلئے آئے گی یا نہیں موٹروے کیس ،مرکزی ملزم عابد علی کی جھوٹی اطلاع دینے والا گرفتار

datetime 16  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )موٹروے کیس میں مرکزی ملزم عابد علی کی جھوٹی اطلاع دینے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کی تحصیل چونیا کا رہائشی نے جھوٹی اطلاع دی کہ ملزم عابد علی گجر پور ہ میں ہی چھپا ہوا ہے ۔ پولیس نے جھوٹی اطلاع دینے والے شخص کو گرفتار کر لیا ، اس شخص کا کہنا تھا کہ میں یہ چیک کررہا تھا کہ میری اطلاع پر پولیس آئے گی یا نہیں۔

قبل ازیں پولیس نے موٹروے متاثرہ  خاتون کیس  کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی اہلیہ بشریٰ کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والی خاتون بشریٰ کی ملزم عابد ملہی سے یہ دوسری شادی تھی۔ ملزم عابد کی اہلیہ تحصیل تاندلیہ والا، ضلع فیصل آباد کی رہائشی ہے۔مرکزی ملزم عابد ملہی کی خاتون بشریٰ سے ایک بیٹی ہے جبکہ سابق شوہر سے اس کے چار بچے ہیں۔دوسری جانب آئی جی پولیس پنجاب انعام غنی نے موٹروے کیس کی تفتیش کرنے والے ایک سب انسپکٹر سے تفتیش کے اختیارات واپس لے لئے ہیں جبکہ آئی جی پولیس پنجاب نے کیس کی تفتیش کے لئے انسپکٹر رینک کے عہدے کے افسر ایس ایچ او پرانی انار کلی کو تفتیش سونپ دی ہے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لاہور پولیس سانحہ موٹر وے کی تفتیش کو آٹھ روز مکمل ہوجانے کے باوجود سانحہ کے مرکزی ملزم عابد ملہی کا تاحال سراغ نہیں لگا سکی۔ کیس کی تفتیش کے سلسلے میں پولیس نے عابد ملہی کے جن 9 رشتہ داروں سمیت کیس کے تیسرے ملزم اقبال عرف بالا مستری اور شفقت کو حراست میں لیا تھا ان سے ملنے والی معلومات بھی اب تک پولیس کے کام نہیں آسکی۔ یہ بھی بتایا ہے کہ پولیس نے مقدمہ کے مرکزی کردار عابد ملہی کی گرفتاری کے لئے 66 چھاپے بھی مارے ہیں۔ لیکن ملزم ان چھاپوں کے دوران بھی کہی سے نہیں مل سکا جبکہ دوسری طرف ملزم عابد ملہی نے موبائل فون کا استعمال بھی بند کردیا ہے جس کے باعث پولیس کے لئے مزید مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ مزید برآں پولیس نے حراست میں لئے جانے والے ایک مبینہ ملزم وقار الحسن کے برادر نسبتی عباس اور دو بھائیوں سلامت اور بوٹا کو چھوڑ دیا گیا تینوں کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق وقارالحسن بھی اس کیس کی ابتدائی تحقیقات میں ملوث نہیں پایا گیا تھا۔ اس مقدمے میں بے گناہی کے بعد ان کو ریلیز کردیا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…