اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

شدید بارشوں سے سی پیک کے نام سے معروف شاہراہ کا ایک سو کلومیٹر تک حصہ صفحہ ہستی سے مٹ گیا

datetime 14  ستمبر‬‮  2020 |

خضدار( این این آئی) خضدار ٹو رتوڈیروروڈ سی پیک شاہراہ کے نام سے متعارف ہے، تاہم اس شاہراہ پر سفر کرنا جان ہتھیلی پر رکھنے کے مترادف اور جان جوکھوں والا کام بن چکا۔تودہ گرنا اور روڈ کا ٹوٹ جانا عام سی بات ہے، یہاں ایک سو کلومیٹر تک سی پیک شاہراہ صفحہ

ہستی سے مٹ چکی ہے۔ 2003سے تعمیراتی آغاز لینے والی شاہراہ 2018یعنی پندرہ سال میں جاکر مکمل ہوچکی ہے،قومی خزانے سے اربوں روپے اس شاہراہ پر خرچ ہوئے اب نتیجہ یہ ہے کہ جس شاہراہ کو سی پیک کا نام دیاجارہاہے اسے ایک لنک روڈ کا نام دینا بھی عیب دار محسوس ہوتی ہے۔ خضدار رتوڈیرو شاہراہ کو بنانے اور اس کی نگرانی کرنے اور اس کے لئے فنڈز ریلیز اور وصول کرنے والے انجینئرز، پروجیکٹ ڈائریکٹرز، محکمہ این ایچ اے اور ان کے رجسٹرڈ کنسٹریکشن فرمز کو ہی داد دینی چاہیے کہ انہوں نے بلوچستان کے لئے شاہراہ تعمیر کی ہے یا کوئی آثارِ قدیمہ دریافت کرلیا ہے۔نہ شاہراہ کی کوئی ساخت ہے، نہ شاہراہ کا پل و لک موجود ہے۔حالیہ بارشوں سے خضدار رتوڈیرو شاہراہ کا ایک سو کلومیٹر حصہ ختم ہوچکا ہے۔ جب کہ گزشتہ تین روز سے ونگو مارکو کے علاقے میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے روڈ مکمل طور پر بند ہوچکا ہے،مسافربڑی تعداد میں بے یار و مدد گار پڑے ہیں،جن میں خواتین بچے اور ضعیف و مریض افراد شامل ہیں اور وہ رْل رہے ہیں وہاں سینکڑوں گاڑیاں کھڑی ہیں نہ وہ بلوچستان میں داخل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی سندھ میں،سبزئی سپلائی کرنے والے افراد نے اپنی سبزیاں خراب ہونے پر وہی ضائع کردی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…