لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ موٹروے کو گزرے پانچ دن ہو چکے ہیں، ملزمان کی شناخت بھی ہو چکی ہے لیکن ان میں ایک وقار الحسن نے خود کو پولیس کے حوالے کر تے ہوئے صحت جرم سے انکار کیا ہے، جبکہ دوسرا مرکزی ملزم عابد تاحال گرفتار نہیں ہو سکا ہے۔
قلعہ ستارشاہ کےرہائشی عابد کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس نے ایک سال قبل یہاں پر جگہ خریدی، وہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں وارداتیں کرتے تھا، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ملزم عابد لوگوں سے زیادہ ملتا جلتا نہیں تھا، اس کی مشکوک حرکات کے بارے لوگ جانتے تھے، وہ جھگڑالو تھا اور آس پاس کے لوگوں سے بھی لڑائی جھگڑا کرتا رہتا تھا، اہل علاقہ نے عابد کی جلد از جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ عابد علی نے علاقہ مکینوں کا جینا مشکل کررکھا تھا،وہ قتل، ڈکیتی، بدسلوکی اور مویشی چوری سمیت سنگین وارداتوں میں ملوث تھا،ملزم کو پانچ سال قبل ساتھیوں سمیت علاقہ سے نکال دیا گیا تھا اس کے علاوہ ملزم عابد نے زمین کے تنازع پر اپنے سگے ماموں کوبھی مار دیا تھا۔2013 میں ملزم عابد نے خاتون اور اس کی بیٹی سے بدسلوکی کی اور بعد میں متاثرہ خاندان سے صلح کر لی لیکن پھر بھی جرائم سے باز نہ آیا، وہ کئی بار گرفتار ہوا لیکن پھر ضمانت پر باہر آ جاتا ہے۔