بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پولیس کے 4ہزار ”گمشدہ“ اہلکاروں کا سراغ مل گیا

datetime 2  جولائی  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک)سندھ پولیس کے 4 ہزار ”گمشدہ “ پولیس اہلکاروں کا سراغ لگا لیا، پولیس اہلکار اہم شخصیات کی حفاظت پر مامور ہیں۔ نجی ٹی وی نے کراچی پولیس کے غائب ہونے والے چار ہزار پولیس اہلکاروں کا سراغ لگا لیا۔ تمام اہلکار فریال تالپور، سراج درانی، شہلا رضا، شرجیل میمن، ایم کیو ایم ارکان اور دیگر اہم شخصیات کی حفاظت پر مامور ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ملک کی اعلیٰ شخصیات کی حفاظت کےلئے 200سے زائد موبائلیں مصروف ہیں، عوام کی حفاظت کےلئے سائیکل بھی نہیں۔صوبائی وزراءکی حفاظت کےلئے مجموعی طورپر 200پولیس اہلکاروں کی فوج مختص ہے۔ آغا سراج درانی کی حفاظت کےلئے 13، شہلا رضا کی حفاظت کےلئے 17پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ وزیربلدیات شرجیل انعام میمن 27پولیس اہلکاروں کے جلوس میں چلتے ہیں۔ نثار کھوڑو، جاوید ناگوری کی حفاظت کےلئے 58پولیس اہلکار اور 24موبائلیں تعینات ہیں۔ معاونین خصوصی، کوآرڈی نیٹر اور مشیروں کےلئے 83اہلکار اور 9موبائلیں مختص ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ممبران قومی اسمبلی کی حفاظت53اہلکار اور 7موبائلیں، سابق صدر کی ہمشیرہ اور سندھ کی طاقتور ترین خاتون فریال تالپور 13پولیس اہلکاروں اور 3موبائلوں کی حفاظت میں رہتی ہیں۔پیپلزپارٹی کے ممبران صوبائی اسمبلی 19اہلکار اور سینیٹرز 48پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما ﺅں کےلئے جن میں آصف علی زراداری کی والدہ بھی شامل ہیں، 167پولیس اہلکار اور 11موبائلیں تعینات ہیں۔ ایم کیو ایم کے ممبران اسمبلی اور سابق وزرائ 23پولیس اہلکار اور 2موبائلیں مختص ہیں۔ روف صدیقی کےلئے 11پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ ایم کیو ایم کے سابق مشیروں کےلئے 28اور اراکین قومی اسمبلی کےلئے 75 پولیس اہلکار تعینات ہیں جن میں سے 16صرف فاروق ستار کے پاس ہیں۔اے این پی ، ایم کیو ایم ایم حقیقی، فنکشنل لیگ، ق لیگ اور پی ٹی آئی کے رہنماوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کےلئے 166پولیس اہلکار مختص ہیں۔ سنی علمائ اور مساجد کےلئے 201پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ شیعہ علما اور امام بارگاہوں کےلئے 161پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ آصف علی زرداری کے رفیق خاص ڈاکٹر عاصم حسین جن کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے 24پولیس اہلکاروں کی حفاظت میں گھر سے نکلتے ہیں ، ڈاکٹر عاصم حسین کے داماد بھی عوام کے حکمرانوں کی فہرست میں شامل ہیں اور ان کی حفاظت کےلئے 6 پولیس اہلکار تعینات ہیں۔عوام کی حفاظت کے ذمہ دار اے آئی جی کراچی پولیس غلام قادر تھیبو 30پولیس اہلکاروں کی حفاظت میں چلتے ہیں۔ وی وی آئی پیز اور حکمرانوں کی حفاظت کےلئے مامور پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں قومی خزانے سے تقریباً 2کروڑ روپے ادا کئے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 323پولیس اہلکار مختلف حیلوں بہانوں اور طبی بنیادوں پر غیر حاضر ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…