منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

واقعہ کربلا کے برسوں بعد کوفہ کے چند علماءکرام حضرت زین العابدین ؒکے  پاس آئے اور آپ سے پوچھا ” حضرت یہ فرمائیے گا کیا ہم مسلمان مچھر مار سکتے ہیں“ ؟آپ ؒ نے اداس لہجے میں انہیں کیا جواب دیا تھا ؟ ایمان افروز تحریر

datetime 28  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’کیا ہم اس کریکٹر کے ساتھ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ آپ ہم مسلمانوں کا کریکٹر ملاحظہ کیجئے‘ واقعہ کربلا کے برسوں بعد کوفہ کے چند علماءکرام حضرت زین العابدین رحمة اللہ علیہ کے پاس آئے اور آپ سے پوچھا ” حضرت یہ فرمائیے گا کیا ہم مسلمان مچھر مار سکتے ہیں“ آپ نے اداس لہجے میں جوب دیا ” آپ کیسے لوگ ہیں‘

آپ نے حضرت امام حسین علیہ السلام کو کربلا میں شہید کر دیا لیکن مچھر مارنے کےلئے فتویٰ تلاش کر رہے ہیں“ ہم آج بھی ایسے ہی ہیں‘ ہم بڑے سے بڑا ظلم کرتے ہوئے‘ ایک سیکنڈ نہیں سوچتے‘ اس ملک میں دس برسوں میں پچاس ہزار بے گناہ لوگ مار دیئے گئے‘ کسی نے کسی سے نہیں پوچھالیکن ہم آج بھی پولیو کی ویکسین کےلئے فتوے تلاش کر رہے ہیں‘ ہم ہر سال غم حسینؓ بھی مناتے ہیں اور مسلمان ہونے کے باجود کسی دوسرے مسلمان کو عزت سے زندگی بھی نہیں گزارنے دیتے‘ حضرت امام عالی مقام نے فرمایا تھا ” میرے لئے موت کی آغوش کسی فاسق شخص کے ساتھ زندگی بسر کرنے سے ہزار درجے بہتر ہے“ لیکن ہم لوگ فاسقوں کے ساتھ بھی رہتے ہیں اور خود کو حضرت امام حسین علیہ السلام کا غلام بھی کہتے ہیں‘ ہم شمر جیسی ظالمانہ زندگی گزارتے ہیں لیکن عزت حضرت امام حسین ؓ جیسی چاہتے ہیں‘ ہم کیسے لوگ ہیں؟کیا ہم اس کریکٹر کے ساتھ دنیا اور آخرت میں اللہ کی مہربانی کے حق دار ہو سکتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…