اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پہلے میرا ایک بچہ تھا اب میرے تین بچے اور آٹھ کتے ہیں، سینئرپاکستانی اینکر کی تنخواہ آدھی ہوئی تو میڈیا انڈسٹری چھوڑ دی

datetime 15  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) 12 اگست کو سینئر اینکر پرسن شہزاد حسن نے اچانک گورمے نیوز نیٹ ورک (جی این این) ٹی وی سے استعفی دے دیا۔ ان کے استعفے کے بارے میں کسی کو کوئی حقیقت معلوم نہیں تھی کہ انہوں نے استعفیٰ کیوں دیا، اب انہوں نے یو ٹیوب پر ناجیہ اشعر اور جنید سے بات چیت کی اور اس میں انکشاف کیا کہ انہوں نے استعفیٰ کیوں دیا، انہوں نے کہا کہ میری تنخواہ آدھی کر دی گئی،

یعنی آج سے بارہ سال پہلے جو میری تنخواہ تھی مجھے دوبارہ اس تنخواہ پر لے آئے، اس وقت میرا ایک بچہ تھا اور اب میرے تین بچے ہیں اور آٹھ کتے ہیں، دنیا میں کچھ بھی سستا نہیں ہوا، سب مہنگا ہوا ہے اور میری تنخواہ آدھی کر دی گئی۔ شہزاد حسن نے کہاکہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی سروس ان پیسوں میں نہیں بیچنا چاہتا، اس لئے میں نے نوکری چھوڑی اور اب میں سوچ رہاہوں کہ مستقبل میں کیا کرنا ہے، میں پاکستان میں رہوں گا یا نہیں رہوں گا،انہوں نے مزید کہا کہ میں کھیتی باڑی کروں گا یا ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں چلا جاؤں گا، میرے اس اچانک فیصلے کے بعد مجھے گھر جاکر امی کی ڈانٹ سننا ہے، بیوی کے مسائل سننے ہیں کہ اگلا ماہ کا خرچہ کیسے اٹھانا ہے۔انہوں نے میڈیا میں نئے آنے والوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ اور کرسکتے ہیں تو کرلیں کیونکہ میڈیا میں آئندہ پانچ سال بہت خراب ہونے والے ہیں، اور اگر کرنا بھی چاہتے ہیں تو کمر کس لیں۔انہوں نے اپنا دو ٹوک فیصلہ سنایا کہ وہ میڈیا انڈسٹری میں دوبارہ نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں دو تین چینلز سے کالز آئی ہیں لیکن وہ کیمرہ کے سامنے اور پیچھے کام نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ کیمرہ بالکل چھوڑ دیا ہے، اٹھارہ سال اس فیلڈ میں گزارے ہیں، بہت انجوائے کیا اور اب میں کچھ اور کرنا چاہتا ہوں میڈیا سے میرا دور دور تک کوئی تعلق نہیں رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…