منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

نظریے سے ہٹ گیا تو پارٹی ختم اپوزیشن کی کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے وزیر اعظم عمران خان کا دو ٹوک اعلان

datetime 13  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی کی خرابیوں کو درست کررہے ہیں، اپوزیشن اپنی سیاست بچانے کے لیے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کررہی ہے، شروع سے انہوں نے ہر قانون سازی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، قومی مفاد میں ہونے والی قانون سازی میں اپوزیشن کو حمایت کرنی چا ہئیے۔

ملکی مفاد میں ہونیوالی قانون سازی کے بدلے این آر او نہیں دے سکتے، نظریہ سے ہٹ گیا تو پارٹی ختم ہوجائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر اعظم نے اجلاس کے موقع پر حکومتی ارکان کو پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی بارے اعتمار میں لیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی پاکستان کیلئے ضروری ہے۔ماضی کی خرابیوں کو درست کررہے ہیں۔سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی بلز کی منظوری لے لیں گے۔اپوزیشن اپنی سیاست بچانے کے لیے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کررہی ہے۔اپوزیشن شروع سے ہر قانون سازی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔عمران خان نے کہا کہ قومی مفاد میں ہونے والی قانون سازی میں اپوزیشن کو حمایت کرنی چاہیئے،۔اپوزیشن نے ملکی مفاد کو ذاتی مفاد پر نہ ترجیح دی تو وہ بے نقاب ہونگے۔ ملکی مفاد میں ہونے والی قانون سازی کے بدلے این آر او نہیں دے سکتے، عمران خان نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ عوام کے نمائندے ہیں، پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی میں فعال کردار ادا کریں، وزیراعظم کا کہناتھا کہ اپوزیشن کی کسی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے وہ این آر او مانگتے ہیں جو ہم کسی صورت میں نہیں دینگے ہم پارٹی منشور سے پیچھے ہٹ گئے تو تباہی ہوگی ۔

انہوں نے مطالبات لکھ کر بھیجے کہ منی لانڈرنگ نکال دیں۔ا نہوں نے کہا کہ شہباز شریف او ر بلاو ل بھٹو زرداری دو سال سے ہماری حکومت ختم کرنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ،یہ صرف اپنا مال بچانا چاہتے ہیں یہ چاہتے ہمارے کیس ختم ہو جائیں ۔ ہم نے انکا کوئی کیس نہیں بنایا انکے سارے کیسز ماضی کی حکومتوں نے بنائئے ۔خواجہ آصف پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ خواجہ آصف نازیبا گفتگو کرتے ہیں ،سپیکر پروڈکشن آرڈر جاری کرنے میں احتیاط کریں ہم انہیں پروڈکشن آرڈر جاری کرتے ہیں یہ ہمارے خلاف تقریریں جھاڑنا شروع کردیتے ہیں اگر نظریہ سے پیچھے ہٹ گیا تو پارٹی ختم ہوجائے گی ۔ وزیر اعظم نے پارٹی اراکین اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ فعال کردار ادار کریں اور اپوزیشن کو ٹف ٹائم دیا جائے ۔



کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…