ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

اردو ادب کا بڑا نام چل بسا

datetime 11  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )اردو کے عالمی شہرت یافتہ شاعر راحت اندوری 70 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق راحت اندوری میں آج ہی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ بھارتی شہر اندور کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔اردو مشاعروں کی جان سمجھے جانے والے راحت اندوری ذیابیطس، گردوں اور دل کے عارضے میں بھی مبتلا تھے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کورونا کے علاج کے دوران ہی انہیں دل کے 2 دورے پڑے جو جان لیوا ثابت ہوئے اور وہ دار فانی سے کوچ کرگئے۔راحت اندوری نے انتقال سے کچھ ہی دیر پہلے سوشل میڈیا پر دعاؤں کی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ وہ ٹوئٹر پر اپنی صحت کے حوالے سے آگاہ کرتے رہیں گے۔ان کے انوکھے اور پراثر انداز بیاں کی بناء پر دنیا بھر میں ان کے قدر دان موجود تھے۔ راحت اندوری کی کئی نظمیں اور شعر زبان زد عام ہیں اور ان کے شعربھارت کے سیاسی جلسے جلوسوں میں بھی موحول گرما دیتے ہیں۔بھارتی شاعر جاوید اختر نے کہا ہے کہ راحت اندوری حبیب جالب کی طرح شاعروں کے اس معدوم ہوتے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، جو حق بات کہنے کی جرأت رکھتے تھے۔راحت اندوری نے اردو ادب میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی اور طویل عرصہ درس و تدریس سے وابستہ رہے، انہوں نے بالی وڈ فلموں کے لیے گیت بھی لکھے تھے جن میں ’مرڈر‘ اور ’منا بھائی ایم بی بی ایس‘ شامل ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے کئی نظموں اور شاعری کے مجموعے لکھے ہیں۔۔افواہ تھی کہ میری طبعیت خراب ہے، لوگوں نے پُوچھ پُوچھ کے بیمار کردیا۔۔۔۔۔دو گز سہی یہ میری ملکیت تو ہے، اے موت تُو نے مجھ کو زمیں دار کردیا‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…