منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

“پولیس سیکیورٹی کیلئے ہوتی ہے نہ کہ اپنے ذاتی کاموں کیلئے”- پولیس اہلکارسے چھتری اٹھوانا ڈپٹی کمشنر شکارپورکو مہنگا پڑگیا ڈی آئی جی نے ڈپٹی کمشنر کو دی گئی سیکیورٹی واپس لے لی‎

datetime 10  اگست‬‮  2020 |

لاڑکانہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈپٹی کمشنر شکارپور نوید لاڑک کی جانب سے اپنی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار سے ذاتی کام لینے کے خلاف سوشل میڈیا پر وائرل تصویر پر ڈی آئی جی لاڑکانہ عرفان بلوچ نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی شکارپور کامران نواز کو ڈپٹی کمشنر شکارپور سے

پولیس سیکیورٹی فوری طور پر واپس لینے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ نجی ٹی وی دنیا کی رپورٹ کے مطابق جس کے بعد ایس ایس پی نے ڈپٹی کمشنر سے سیکیورٹی واپس لے لی ہے ، ڈی آئی جی عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ پولیس سیکیورٹی کیلئے ہوتی ہے نہ کہ اپنے ذاتی کاموں کیلئے ۔اس عمل سے پولیس کا مورال ڈائون ہوا ہے اور آئندہ ایسا عمل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ نواب شاہ سے نمائندے کے مطابق ضلع شہید بینظیر آباد میں آئی جی سندھ کی جانب سے اعلی عدلیہ کے حکم پر برطرف کئے گئے55پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں روکنے کا حکم دیا گیا ہے اس سلسلے میں ایس ایس پی شہید بینظیرآبادتنویر حسین تنیو نے تحریری طور پر محکمہ خزانہ کو خط ارسال کردیا ہے۔واضح رہے کہ30جولائی کو آئی جی سندھ نے پولیس اہلکاروں کو برطرف کرنے کا حکم دیا تھا ان پر2014میں سفارشی بنیاد پر بھرتی ہونے کا الزام تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…