جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

ا پوزیشن کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کو ملا کر عددی اکثریت حاصل، ان ہاؤس تبدیلی ہوئی تو نیا وزیراعظم کتنے دن تک رہ سکے گا؟وزیراعظم عمران خان کیخلاف جلد کیسز سامنے آنے کا انکشاف

datetime 29  جولائی  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ اگر ان ہاؤس تبدیلی ہوئی تو کوئی وزیراعظم 60 دن سے زیادہ نہیں رہ سکے گا، پوزیشن کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کو ملا کر عددی اکثریت حاصل ہے حکومت شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن کر کلبھوشن یادیو کو سہولیات دے رہی ہے ایسے اقدامات سے کشمیریوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے

ایاز صادق نے کہا کہ حکومت نے اب اپنے اتحادیوں کو بھی لگا دینا شروع کردیا ہیں اگر ان ہاؤس کوئی تبدیلی آتی ہے تو آنے والا وزیراعظم صرف ساٹھ دن کے لیے ہوگا قومی اسمبلی اور سینیٹ کو ملا کر ہمارے پاس نمبر زیادہ ہیں اب یہ دیکھنا پڑے گا کہ حکومت کے کچھ اتحادی کدھر ووٹ دیتے ہیں۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت کے اتحادی ووٹ دیتے ہیں یا نہیں کچھ اتحادی حکومت کے ساتھ نہیں ہیں اور کچھ جانے والے ہوں گے سابق سپیکر نے مزید کہا کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے پر آرڈیننس کی ضرورت نہیں تھی آرڈیننس 20 مئی کو جاری کر کے حکومت نے پارلیمنٹ سے پوشیدہ رکھا انہوں نے کہا کہ اس کے حوالے سے کوئی خاص دباؤ نہیں تھا ہم نے انیس سو ساٹھ کا معاہدہ دستخط کیا ہوا ہے کہ ہم عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کو مانیں گے اور عدالتی کارروائیوں کا حصہ بنتے ہوئے عالمی معیار کے مطابق ضروری سہولتیں فراہم کریں گے تو پھر حکومت کس کو خوش کرنے کے لیے آرڈیننس جاری کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان واقعات کی ٹائمنگ بہت اہم ہے کشمیر میں لاک ڈاؤن کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے ایسے وقت میں حکومت نے بھارت کی سہولت کے لیے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا راستہ واہگہ بارڈر سے کھول دیا ہے کرتارپورراہداری بھی ہندوستان والوں کو خوش کرنے کے لیے بنائی گئی ہے بھارت نے نیپال سے ہمارے ایک ریٹائرڈ کرنل کو اغوا کر رکھا ہے حکومت اس کا کوئی ذکر نہیں کرتی۔

بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی ماہی گیروں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر والے کشمیری ہماری طرف سے اٹھائے گئے ہر قدم پر نظر رکھتے ہیں اس طرح کی چیزیں تکلیف دیتی ہیں حکومت شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن کر کلبھوشن کو مراعات دینے کی کوشش کر رہی ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا موقف بالکل واضح ہے کہ حکومت کے ساتھ کسی معاملے پر نہیں بیٹھنا چاہیے تحریک انصاف کا ایک کیس گزشتہ سات برس سے الیکشن کمیشن میں زیر التوا ہے جبکہ کچھ کیسز میں عمران خان کے خلاف بھی جلد سامنے آنے والے ہیں جب یہ کیس سامنے آئے تو نظر آئے گا کہ وہ بہت غیر مستحکم ہیں حکومت کے خاتمے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ عدالت سے نااہل ہو جائے جبکہ دوسرا یہ کہ حکومت کے اتحادی ساتھ چھوڑ دیں۔



کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…