منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے اپنے ممبران اسمبلی کو 14 کروڑ روپے تک فی ایم این اے دیے،پتہ نہیں پیسے کہاں لگائے ہیں،قادر پٹیل کا اہم سوال

datetime 27  جولائی  2020 |

اسلام آباد آ(این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل نے کہا ہے کہ حکومت نے اپنے ممبران اسمبلی کو 14 کروڑ روپے تک فی ایم این اے دئیے ہیں،پتہ نہیں پیسے کہاں لگائے ہیں،یہ نجکاری کا مناسب وقت نہیں ،جو ہماری شہیدوں کی نشانیاں ہیں انہیں اپنے اے ٹی ایمز کو نہ بیچیں ۔ پیر کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے کہوں گا آپ نے گھبرانا نہیں ہے،

میری تقریر سننا ہے،نجکاری گزشتہ ادوار میں بھی بڑا مسئلہ تھا،ہم نے تو چیزیں خریدنا تھیں بیچنا تو نہیں تھیں،ہم نے تو 100 ارب ڈالر واپس کرنا تھیں ۔ انہوںنے کہاکہ اسٹیل ملز کے باہر تو اسد عمر نے کہا تھا کہ ہم اسے چلائیں گے،خالی اسٹیل ملز نہیں ہے اسٹیل ملز کی 12 ہزار ایکڑ زمین بھی ہے،حکومت نے پی ٹی ڈی سی کے ملازمین کو فارغ کردیا ،ایک وزیر کے بیان پر پوری ائیر لائن بیٹھ گئی ،مسائل کی جب بات کی جاتی ہے تو اس کا جواب نہیں ملتا ،نجکاری مہنگائی پر بات ہیں نہیں ہوتی ۔ انہوںنے کہاکہ ایف اے ٹی ایف نیشنل ایکشن پلان بین الاقوامی بات ہو تو آپ کراچی پہنچ جاتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کراچی میں دس سالہ تاریخ کی ریکارڈ بارش ہوئی،کراچی سے تحریک انصاف کے 14 ممبران قومی اسمبلی ہیں،حکومت نے ان ممبران اسمبلی کو 14 کروڑ روپے تک فی ایم این اے دئیے ہیں،پتہ نہیں یہ پیسے کہاں لگائے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ میرے چیئرمین اگر اردو میں بات کریں تو آپکو اعتراض انگریزی میں بات کریں تو بھی اعتراض ،انہوں کیا غلط بات کی جب بارش زیادہ آتی ہے تو پانی زیادہ آتا ہے،لوگ بارش کی وجہ سے نہیں کرنٹ لگنے کی وجہ مرتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ آپ سارا ملک ہی بیچ دیں ،یہ نجکاری کا مناسب وقت نہیں ہے،جو ہماری شہیدوں کی نشانیاں ہیں انہیں اپنے اے ٹی ایمز کو نہ بیچیں ۔ عبدالقادر پٹیل نے ممبران اسمبلی کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کی جانب پیٹ کرنے پر اعتراض کردیا ۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہاکہ آپ ایسی باتیں نہ کریں یہ غلط بات ہے ۔ قادر پٹیل نے کہاکہ میں تو رولز کوٹ کررہا ہوں کہ رولز کیا کہتے ہیں ،آپ پتا نہیں کیوں اس کا غلط مطلب سمجھتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…