بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

پائلٹس نے لائسنس لینے کیلئے کسی اور کو بٹھاکر امتحان دلوایا،وزیر ہوا بازی کا نیا انکشاف

datetime 24  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے نیا انکشاف کیا ہے کہ پائلٹس کے  لائسنس لینے کا غلط طریقہ استعمال کیا گیا جس میں کسی اور کو بٹھا کر امتحانات دئیے گئے۔جمعہ کو گفتگو کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے بعد سول ایوی ایشن نے ڈگریاں خود چیک کرنا شروع کیں، بہت سارے پائلٹس کے لائسنس مشکوک تھے

جن میں سے کچھ پائلٹس نے مانا کہ ان سے غلطی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ لائسنس امتحانات میں غیرشفاف طریقہ کار استعمال کیا گیا، فروری 2019 میں ہم نے تحقیقاتی بورڈ بنایا، فارنزک انکوائری ہوئی، تحقیقات میں ایک سال 4 ماہ لگے، وزیراعظم کو رپورٹ دی گئی کہ  262 پائلٹس کے لائنسنس مشکوک تھے، ان میں سے 28 پائلٹس پرثابت ہوگیا کہ انہوں نے غلط طریقے سے لائسنس لیے جس کے بعد ان کے  لائسنس منسوخ کیے گئے۔غلام سرور خان نے بتایا کہ لائسنس تو سی اے اے نے جاری کیے، سپریم کورٹ میں بتایا گیا کہ 262 جعلی مشکوک ہیں جس پر سپریم کورٹ نے سخت ایکشن لینیکے لیے کہا، لائسنس اتھارٹی کے 5 لوگوں کی معطلی ہوئی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بات یہاں نہیں رکے گی، منطقی انجام تک جائے گی، کس کس نے سہولت کاری کی اور کچھ لین دین ہوا ہوگا، امتحان کس کی جگہ کس نے بیٹھ کردیا، جس نے کسی کی جگہ بیٹھ کرامتحان دیا اس پر کرمنل مقدمہ درج ہوگا، ایک ممبر کو ہم نے ٹاسک دیا ہے جو رضاکارانہ طور پربھی کام کررہا ہے، ہم نے سہولت کار اور مجرم تک پہنچنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پائلٹس کے معاملے پر بدنیتی نہیں ہے، دس ممالک نے پائلٹس لائسنس کی تصدیق کا کہا، غیر ملکی ائیرلائنز پر کام کرنے والے پائلٹس کی بھی تصدق کی، لائسنس لینے کاغلط طریقہ استعمال کیا گیا، کسی اور کو بٹھا کر امتحانات دئیے گئے۔غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ ہم نے پی آئی اے کی نجکاری نہیں کرنی لہٰذا پی آئی اے نجکاری فہرست میں نہیں لیکن ادارے کی دوبارہ تشکیل نو کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ سی ای او پی آئی اے کے لیے اشتہار کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے،  گزشتہ 10 سال میں 11 سی ای او  پی آئی اے تبدیل ہوئے، سیاسی طور پر یونین اثرو رسوخ استعمال کرتی تھیں، ہمارا پورا جہاز چلا گیا جو جرمنی میں کھڑا ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ قوم نے ہمیں صفائی کا مینڈیٹ دیا ہے لہٰذا صفائی کا عمل جاری رہے گا اور احتساب بلا تفریق ہو گا جب کہ احتساب وفاقی کابینہ کا بھی ہونا چاہیے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…