بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

کراچی کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، سیاسی جماعتوں کے پاس طاقت نہیں ہوتی تو اختیارات مانگتی ہیں، جب اختیارات مل جاتے ہیں تو ذمہ داری بھول جاتی ہیں،عدالت کارکردگی کر شدید برہم

datetime 24  جولائی  2020 |

کراچی(این این آئی)سندھ ہائی کورٹ میں کراچی میں گندگی غلاظت اور کچرا نہ اٹھانے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس خادم حسین شیخ نے ریمارکس دیئے کہ کراچی کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔سندھ ہائی کورٹ میں کراچی میں گندگی غلاظت اور کچرا نہ اٹھانے کے

خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔دورانِ سماعت عدالتِ عالیہ کے جج جسٹس خادم حسین کچرا، گندگی اور غلاظت کی پیش کردہ تصاویر دیکھ کر رنجیدہ ہو گئے۔جسٹس خادم حسین شیخ نے سیکریٹری بلدیات سندھ کو فورا طلب کر لیااور کہا کہ کراچی کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، کیا کسی بڑے شہر کے ساتھ ایسا کیا جاتا ہے؟۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے پاس طاقت نہیں ہوتی تو اختیارات مانگتی ہیں، جب اختیارات مل جاتے ہیں تو اپنی پاور اور ذمے داری بھول جاتی ہیں۔حکومتِ سندھ کے وکیل نے کہا کہ کراچی سے کچرا اٹھانا ڈی ایم سیز اور کے ایم سی کی ذمے داری ہے۔جسٹس خادم حسین شیخ نے کہا کہ کے ایم سی والے تو آئے روز کہتے رہتے ہیں کہ ہمیں فنڈ نہیں ملتے، وہ تو کہتے ہیں کہ ہمیں کام کرنے نہیں دیا جاتا ہے۔انہوں نے سندھ گورنمنٹ کے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جب آپ کے ایم سی کو فنڈ نہیں دیتیتو خود کیوں کام نہیں کرتے؟۔جسٹس خادم حسین شیخ نے کہا کہ کراچی میں گندگی اور کچرا ایک دن وبائی صورتِ حال اختیار کر جائے گا، کیا کسی شہر کی ایسی حالت ہوتی ہے؟۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جب کچرا چھتوں کو چھوتا ہے تو تب ایک دو ٹرک اٹھا لیے جاتے ہیں۔جسٹس ارشد حسین خان نے کہا کہ عدالتی نوٹسز کے باوجود کسی نے پیش ہو کر وضاحت دینے کی زحمت نہیں کی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…