بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

ایک گھنٹے کی بارش سے سندھ حکومت کی کارکردگی سامنے آگئی،  کراچی کو لاوارث کر دیا گیا، فنڈز توصرف اپنی جیبیں بھرنے کے لیے ہے ؟ تہلکہ خیز انکشاف

datetime 21  جولائی  2020 |

کراچی ( آن لائن )پاکستان تحر یک انصاف کی ر کن قومی اسمبلی اور وفاقی پارلیمانی سیکریٹری برائے بین الصوبائی رابطہ کمیٹی صائمہ ندیم نے کہا ہے کہ مون سون کا سیزن چل رہا ہے مگر ابھی تک کسی قسم کی تیاری نہیں کی گئی،فنڈز تو رکھا جاتا ہے مگر صرف اپنی جیبیں بھرنے کے لیے ر کھا جا تا ہے ایک گھنٹے کی بارش سے کراچی کا جو حال ہوا اس سے سندھ حکومت کی کارکردگی سامنے آگئی ہے۔

گزشتہ روز اپنے ایک جاری کردہ بیان میں صائمہ ندیم نے کہا کہ کراچی کو لاوارث کر دیا گیا ہے ، کراچی جسے ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے مگر اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ،اگر وفاق مداخلت کرتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے ، کبھی کہا جا تا ہے کہ 18 ویں ترمیم خطرے میں ہے۔صائمہ ندیم کا مزید کہنا تھا کہ کراچی جو 67 فیصد ٹیکس کی مد میں ادا کرتا ہے مگر اس کی سڑکیں، سیوریج و پانی کا نظام مونجو داڑو کا منظر پیش کرتے ہیں ،برسات جس کے لیے لوگ دعائیں کرتے ہیں مگر کراچی میں چند بوندیں زحمت بن جاتی ہیں ،ایک گھنٹے کی برسات سے شہر کسی دریا کا منظر پیش کرتا ہے ،سڑکیں اس طرح ڈوب جاتی ہیں جیسے کبھی موجود ہی نہیں تھیں ،پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پچھلے 13برس سے اقتدار میں ہے اس کے باوجود کراچی میں نہ پینے کا صاف پانی ہے نہ سیوریج کا کوئی نظام ہے ،مون سون کا سیزن شروع ہوچکا ہے ، نالوں کی صفائی کے لیے فنڈ زرکھا جاتا ہے اور جب نالوں کی صفائی کا کام شروع ہوتا ہے تو بارش شروع ہو جاتی ہے، عوام ہر سال بارش میں اذیت کا شکار ہوتے ہیں ،کراچی جیسے میگا سٹی کا یہ حال ہے تو سندھ کے باقی شہروں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ، مئیر کا کہنا ہے اختیارات نہیں ،سندھ حکومت کہتی ہے 18 ویں ترمیم خطرے میں ہے، عوام کو بتایا جائے ان کا قصور کیا ہے ، سندھ حکومت ہر معاملے میں کرپشن کا بازار گرم کرتی ہے مگر عوام کی کوئی فکر نہیںہے ،سندھ کے لوگ بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور الزام تراشی وفاقی حکومت پر کی جاتی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…