بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

4 دن سے کھانا نہیں کھایا، بچے بھوک کی وجہ سے سو نہیں سکتے، کورونا سے بچیوں کو کام سے نکا ل دیا گیا، غریب خاندان کسی مسیحا کا منتظر

datetime 17  جولائی  2020 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں ایک غریب خاندان کسی مسیحا کے انتظار میں ہے، غریب خاتون نے کہا کہ عید امیروں کی ہوتی ہے غریب کی عید کہاں۔چھوٹی عید بھی یوں ہی گزری اور اب بڑی عید آ رہی ہے کوئی وسائل ہی نہیں ہیں۔ خاتون نے کہا کہ ساری رات ایک طرف مچھر نہیں سونے دیتا دوسری جانب بچے بھوک کی وجہ سے سو ہی نہیں سکتے۔ خود بھی بھوک سے تڑپ رہے ہیں

اور بچے بھی، بہت ہی پریشان ہیں کہ کھانا کھانے کے لئے بھی کوئی وسائل نہیں ہیں۔ اس خاندان نے پچھلے چار دن سے کچھ نہیں کھایا۔ اشرف خود سانس کا مریض ہے اور چل بھی نہیں سکتا ہے، اس کی چھ بیٹیاں ہیں کورونا وائرس آنے سے قبل اس کی دو بیٹیاں لوگوں کے گھروں میں جا کر کام کرتی تھیں لیکن کورنا وباء آنے کے بعد ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔ اس خاندان نے چار دن سے کچھ نہیں کھایا ہے، خاتون خانہ کا کہنا تھا کہ زندگی بہت مشکل سے گزر رہی ہے نہ دوائی کے لئے پیسے ہیں نہ کھانے کیلئے،کوئی کاروبار نہیں ہے، میرا شوہر بیمار ہے، بہت مجبور ہوگئے ہیں۔خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں،سب سے چھوٹی آٹھ سال کی بیٹی ہے جسے بھوک لگی تو چاچا کے ہاں چلی گئی، باقی خاموش ہوگئیں، خاتون نے کہا کہ کیاکرسکتے ہیں جب کچھ ہے ہی نہیں۔بچے جب کھانا مانگتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔خاتون نے کہا کہ بیٹیاں کام کرتی تھیں تو گزارا ہوجاتا تھا اب کوئی کام نہیں کرنے والا بھی نہیں ہے۔بیٹے چھوٹے ہیں ہم انتظار میں رہتے ہیں کہ کسی کی دیہاڑی لگ جائے اور ہم کھانا بنائیں اب تو چار دن سے کچھ کھایا ہی نہیں ہے۔اشرف نامی شخص نے بتایا کہ مالک نے کرایہ نہ دینے کی وجہ سے گھر کو تالا لگا دیا ہے،لاہور میں چھ سات سال سے بے یارومددگار ہوں،بیٹیوں کی شادی بھی کرنی ہے۔ اشرف نے بتایا کہ اگر مجھے مزدوری ملے بھی تو میں کام نہیں کر سکتا۔انہوں نے بتایا کہ نہ بجلی ہے نہ پانی ہے اور نہ گیس ہے، اس خالی پلاٹ میں بیٹھے ہیں کوئی امداد کو تیار نہیں ہے۔گھریلو مسائل سے اشرف اتنا تنگ ہے کہ کہتا ہے کہ اس زندگی کا خاتمہ کر لوں، بھوک افلاس کی وجہ مایوسی غالب آتی جا رہی ہے لیکن ان کی مدد کرنے کو کوئی بھی تیار نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…