بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

ڈی جی سول ایوی ایشن کے خط کے بعد وزیراعظم اور وزیر کے خلاف کارروائی،پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی، اس کی بھی تو کسی کو سزا ملنی چاہئے؟ وزیراعظم سے استعفیٰ طلب

datetime 16  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی سول ایوی ایشن کے خط کے بعد وزیراعظم اور وزیر کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے،وزیر نے جھوٹا بیان دے کر پارلیمان میں غلط بیانی کی تو اس کی سزا کسے ملنی چاہئے؟،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے روزگار اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا،

اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ازالہ کون کرے گا؟،پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی، اس کی بھی تو کسی کو سزا ملنی چاہئے؟۔جمعرات کو ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ عالمی سطح پر ملک کی بدنامی، قومی ادارے کو اربوں کا نقصان پہنچانے پر وزیراعظم مستعفی ہوں۔ انہوں نے کہاکہ ڈی جی سول ایوی ایشن کے خط کے بعد وزیراعظم اور وزیر کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ملک کے اربوں روپے کے نقصان کا ذمہ دار وزیراعظم ہے،سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا، یہ ہوتا ہے اختیارات کا ناجائز استعمال، یہ ہوتی ہے کرپشن۔ انہوں نے کہاکہ سی اے اے کے سربراہ کے خط نے وزیراعظم، کابینہ اور متعلقہ وزیر کو جھوٹا ثابت کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا سوال پوچھے گی کہ جس رپورٹ کی بنیاد پر یہ دعوی کیاگیا، اس کی ساکھ کیا ہے؟،دنیا سوال پوچھے گی کہ جب وزیراعظم کی اجازت سے وزیر ایوان میں بیان دے تو وہ کس پر اعتبار کرے؟،وزیر نے جھوٹا بیان دے کر پارلیمان میں غلط بیانی کی تو اس کی سزا کسے ملنی چاہئے؟،وزیراعظم اور ان کے وزیر کی حماقت سے پی آئی اے کو پہنچنے والے مالی نقصانات کا ازالہ کون کرے گا؟۔ انہوں نے کہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے روزگار اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ازالہ کون کرے گا؟۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی، اس کی بھی تو کسی کو سزا ملنی چاہئے؟،پائلٹ نہیں یہ حکومت، وزیراعظم اور وزیر جعلی ہیں،معیشت کریش کرنے والوں نے پی آئی اے اور اس کی ساکھ بھی کریش کردی۔انہوں نے کہاکہ ملک کا نام بدنام کرنے والے جعلی حکمرانوں نے قوم کا سکون چھینا، جعلساز حکمران سزا کے مستحق ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…