بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

وزیر اعظم اسلام آباد کے آرام دہ محل میں سوئے رہے

datetime 28  جون‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ حکمران دہشت گردی کے بین الاقوامی ایشو کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ،حکمرانوں کا مجرمانہ عمل اسی طرح جاری رہا تو اس کی سزا آئندہ نسلیں بھگتیں گی،دورہ لندن کے دورا ن دہشتگردی کے خاتمہ کے حوالے نصاب پیش کیا،29جولائی کو اسلام آباد میں بھی امن نصاب کی تقریب رونمائی ہو گی ۔ان خےالات کا اظہار انہوںنے پاکستان روانگی سے قبل لندن میں ہیتھرو ائر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کےا انہوںنے کہاکہ دہشتگردی کو ختم کرنے کرنے کےلئے بندوق کے ساتھ ساتھ قلم کا موثر استعمال بھی ضروری ہے ۔انہوں نے کراچی میں لوڈ شیڈنگ اور شدید گرمی کے باعث ہونے والی اموات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ ان اموات کے ذمہ دار وہ عناصر ہیں جنھوں نے 6ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا انہوں نے کہا کہ یہ صرف ملک کو لوٹنے کےلئے اقتدار میں آتے ہیں ،لاکھوں کی تعداد میں بھی لوگ مر جائیں ان کے کانوں پر جوں ت نہیں رینگتی۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں 10روز سے موت کا کھیل جاری ہے اور وزیر اعظم اسلام آباد کے آرام دہ محل میں سوئے رہے ہیں۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاکہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں بے گناہ کارکنوں کے بہنے والے خون کے قطر قطرے کا حساب لیں گے ۔انہوں نے کہاکہ میں رینجرز کو کراچی میں کریمنلز کے خلاف جرات مندانہ کر دار ادا کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں،وہ اپنا بنیادی فریضہ انجام دے رہے ہیں لیکن میں انکو یا د دلانا چاہتا ہوں کہ کچھ لاشیں پنجاب میں بھی پڑی ہیں کچھ قاتل پنجاب میں بھی دندناتے پھر رہے ہیں اور وہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہیں ،انکے خلاف آپریشن کب شروع ہو گا ؟انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں بے گناہ لوگوں کا قتل عام ہوا اور ہم ظالموں اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے ،اللہ کی بارگاہ سے فیصلہ آنے میں دیر ہوتی ہے اندھیر نہیں ۔یہ قانونی جنگ جاری ہے اور جاری رہے گی اس وقت تک لڑیں گے جب تک قاتل کیفر کردار تک نہیں پہنچ جاتے ۔انہوں نے عمران خان کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ مجھے انکی لندن آمد کا علم نہیں نہ مجھے کسی نے ان کے بارے میں بتایا ہے اور نہ ہی ہماری کوئی ملاقات ہوئی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…