جمعرات‬‮ ، 05 مارچ‬‮ 2026 

جرمنی میں ایردوآن مخالفین کے تعاقب کے لیے کتنے ہزار وں جاسوس سرگرم ہیں ، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 3  جولائی  2020 |

برلن (این این آئی )سال 2014 سے 2015 کے درمیان جرمنی میں پناہ کے طلب گار ترک پناہ گزینوں کی سالانہ تعداد 1800 رہی جن میں اکثریت کردوں کی تھی۔ بعد ازاں سال 2016 سے اس میں بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھنے میں آیا جب پناہ کی درخواست دینے والوں کی تعداد 5700 سے زیادہ ہو گئی۔گذشتہ برس سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں حکام کو ترکوں کی جانب سے پناہ حاصل کرنے کی 36 ہزار سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں۔عرب ٹی وی سے گفتگو کرنے والے زیادہ تر

پناہ گزینوں نے باور کرایا کہ ترک پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافے کے مقابل ترکی کی انٹیلی جنس کے جرمنی میں ایجنٹوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جرمنی میں اس قت 50 لاکھ ترک مقیم ہیں۔ان افراد کے مطابق جرمنی کی سرزمین پر اس قوت ترکی کی انٹیلی جنس کے 8 ہزار سے زیادہ ایجنٹس اور سیکڑوں جاسوس موجود ہیں۔ ان کے علاوہ نامعلوم تعداد ایسے ایجنٹس کی ہے جو سفارت خانوں کے ذریعے سرگرم ہیں۔ ان کا مقصد فتح اللہ گولن اور کردوں کے حامیوں کا پیچھا کرنا ہے۔جرمنی میں 30 برس سے مقیم ترک باشندے کمیل کا کہنا تھا کہ جرمن سیکورٹی حکام نے مجھے خبردار کیا کہ میں ترکی کا سفر نہ کروں جہاں میں ترک انٹیلی جنس کو مطلوب ہوں ، وہ مجھ پر جاسوسوں کے ذریعے نظر رکھتی ہے اور میری واپسی کی منتظر ہے۔کمیل کے مطابق اس پر فتح اللہ گولن کی جماعت سے تعلق رکھنے کا الزام ہے جس کی بنیاد پر ترک انٹیلی جنس میرا تعاقب کر رہی ہے۔ کمیل نے بتایا کہ وہ جب ترکی میں تھا تو اس کے علاقے کی مسجد کے امام نے بتایا کہ وہ ترک حکام کے حکم کے مطابق مسجد میں نماز کے لیے داخل نہیں ہو سکے گا۔ اس پر کمیل کا دل نہایت رنجیدہ ہوا کہ وہ اپنے ہی ملک میں دین پر عمل پیرا نہیں ہو سکتا اور مسجد میں جمعے کی نماز ادا نہیں کر سکتا۔یورپ میں ترکی کی انٹیلی جنس کے کام کے بارے میں کتاب تحریر کرنے والے شمیت اینبوم کے اندازے کے مطابق جرمنی میں ترک ایجنٹس کی تعداد 8 ہزار سے زیادہ ہے۔ ان کے علاوہ سیکڑوں جاسوس بھی براہ راست ترک انٹیلی جنس کے زیر نگرانی کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ جرمنی کی سرزمین پر ایجنٹوں کو بھرتی کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…