جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

دربار بابا گْرو نانک اور کرتار پور راہداری چار ماہ بعد یاتریوں کے لیے کھل گئے

datetime 30  جون‬‮  2020 |

شکر گڑھ (این این آئی)سرحدی علاقے شکرگڑھ میں دربار بابا گْرو نانک اور کرتار پور راہداری چار ماہ بعد یاتریوں کے لیے کھول دی گئی۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کرتارپور گوردوارہ میں داخلہ بند کیا گیا تھا جسے اب 4 ماہ بعد پیر کو کھولا گیا ہے۔یاتریوں کو سخت حفاظتی اقدامات اورکورونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے بعد داخل ہونے دیا گیا۔سردار گوبند سنگھ نے کہاکہ 4 ماہ بعد دربار اور کرتار پور راہداری

کھلنے پر پور ی سکھ قوم بہت خوش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برسی میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے آئے سکھ یاتری دعائیہ تقریب میں شرکت کریں گے جب کہ بھارت سرکار بھی سکھ یاتریوں کو کرتار پور آنے کی اجازت دے۔دربار بابا گرو نانک کرتارپور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کی تقریب بھی ہوگی۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ سال 9 نومبر کو کرتار پور راہداری کا افتتاح کیا تھا لیکن کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کرتار پور راہداری پر سکھ زائرین کی آمد و رفت روک دی گئی تھی۔پاکستان نے اپنی طرف سے 29 جون کو کرتار پور راہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا اور اس حوالے سے بھارت کو بھی آگاہ کردیا گیا تھا تاہم بھارت نے کرتارپور راہداری کھولنے سے انکار کردیا تھا۔ سرحدی علاقے شکرگڑھ میں دربار بابا گْرو نانک اور کرتار پور راہداری چار ماہ بعد یاتریوں کے لیے کھول دی گئی۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کرتارپور گوردوارہ میں داخلہ بند کیا گیا تھا جسے اب 4 ماہ بعد پیر کو کھولا گیا ہے۔یاتریوں کو سخت حفاظتی اقدامات اورکورونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے بعد داخل ہونے دیا گیا۔سردار گوبند سنگھ نے کہاکہ 4 ماہ بعد دربار اور کرتار پور راہداری کھلنے پر پور ی سکھ قوم بہت خوش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برسی میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے آئے سکھ یاتری دعائیہ تقریب میں شرکت کریں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…