جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ترک خاتون اول کا دیا ہوا ہار گیلانی کے گلے کا درد بن گیا

datetime 27  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) اگرچہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ترک خاتون اول کی جانب سے عطیہ کیا جانے والا گلے کا ہار (نیکلیس) واپس کر دیا ہے لیکن اب بھی انہیں نیب کے کچھ سخت سوالوں کے جوابات دینا ہوں گے۔ نیب راولپنڈی کے ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ گیلانی کی جانب سے یہ نیکلیس اپنے پاس رکھ لینے کے حوالے سے بیورو کے ہیڈکوارٹرز کو کچھ شکایات موصول ہوئی ہیں، اور یہ شکایات کارروائی کیلئے نیب راولپنڈی کو بھجوا دی گئی ہیں۔معرف تجزیہ کارانصارعباسی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ کرپشن اور چوری کا کیس ہے اور اگر نیب چیئرمین نے اس معاملے میں تحقیقات کی اجازت دی تو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نیب کے سوالوں کا جواب دینا ہوگا، کیونکہ اس معاملے کی وجہ سے پوری قوم کو شرمندگی ہوئی ہے۔ نیب راولپنڈی کو تقریباً دو شکایات بھیجی گئیں جن میں گیلانی کے خلاف کرپشن کے الزامات کے تحت کارروائی کا آغاز کرنے کیلئے کہا گیا ہے کیونکہ ترکی کی خاتون اول کی جانب سے 2010ء میں سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے اپنا جو قیمتی ہار پاکستان کو عطیہ کیا تھا وہ یوسف رضا گیلانی نے اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے سابق وزیراعظم کو خط لکھ کر یہ نیکلیس تین دن میں حکومت کو واپس کرنے کا نوٹس بھجوائے جانے پر سابق وزیراعظم نے یہ ہار نادرا کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ ہار گزشتہ کچھ برسوں سے حکومتی ریکارڈ سے غائب تھا اور اس وقت تک لاپتہ رہا جب تک کچھ روز قبل یوسف رضا گیلانی نے خود اعتراف کیا کہ ہار ان کے پاس ہے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ سرکاری ملکیت ان کی ذاتی جائیداد کا حصہ کیسے بن گئی اور وہ بھی کسی حکومتی اتھارٹی یا مجاز اجازت نامہ کے بغیر۔ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ایک سابق سربراہ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ نیکلیس ان کے ادارے نے خریدا تھا اور بعد میں اسے وزیراعظم ہائوس بھجوایا گیا تھا تاکہ وہاں اسے نمائش کیلئے رکھا جائے۔ تاہم، گیلانی کے وزیراعظم ہائوس سے جانے کے بعد یہ نیکلیس نادرا میں ملا اور نہ ہی وزیراعظم ہائوس سے۔ کچھ ہفتے قبل وزیر داخلہ چوہدری نثار نے گمشدہ ہار کا معاملہ حل کرنے کی خاطر تحقیقات کرانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ وزیر داخلہ کے اعلان کے ایک سے دو دن بعد گیلانی نے خود میڈیا کو بتایا کہ نیکلیس ان کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ترکی کے اردوان خاندان سے ان کی قربت زیادہ ہے اور ترک خاتون اول کو اپنی بہن سمجھتے ہیں لہٰذا وہ یہ نیکلیس اپنے ساتھ لے گئے۔ اگرچہ ایف آئی اے نے پہلے ہی اس معاملے میں تحقیقات شروع کر دی ہے لیکن ادارے کی زیادہ توجہ نادرا کے حکام پر ہے نہ کہ سابق وزیراعظم پر۔ تاہم، نیب کے ذرائع کا ماننا ہے کہ یہ یوسف رضا گیلانی کے خلاف کرپشن کا ٹھوس کیس ہے کیونکہ سرکاری ریکارڈ سے غائب ہونے والا نیکلیس سابق وزیراعظم کے غیر قانونی قبضے سے ملا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…