اسلام آباد(نیوزڈیسک) اگرچہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ترک خاتون اول کی جانب سے عطیہ کیا جانے والا گلے کا ہار (نیکلیس) واپس کر دیا ہے لیکن اب بھی انہیں نیب کے کچھ سخت سوالوں کے جوابات دینا ہوں گے۔ نیب راولپنڈی کے ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ گیلانی کی جانب سے یہ نیکلیس اپنے پاس رکھ لینے کے حوالے سے بیورو کے ہیڈکوارٹرز کو کچھ شکایات موصول ہوئی ہیں، اور یہ شکایات کارروائی کیلئے نیب راولپنڈی کو بھجوا دی گئی ہیں۔معرف تجزیہ کارانصارعباسی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ کرپشن اور چوری کا کیس ہے اور اگر نیب چیئرمین نے اس معاملے میں تحقیقات کی اجازت دی تو سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نیب کے سوالوں کا جواب دینا ہوگا، کیونکہ اس معاملے کی وجہ سے پوری قوم کو شرمندگی ہوئی ہے۔ نیب راولپنڈی کو تقریباً دو شکایات بھیجی گئیں جن میں گیلانی کے خلاف کرپشن کے الزامات کے تحت کارروائی کا آغاز کرنے کیلئے کہا گیا ہے کیونکہ ترکی کی خاتون اول کی جانب سے 2010ء میں سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے اپنا جو قیمتی ہار پاکستان کو عطیہ کیا تھا وہ یوسف رضا گیلانی نے اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے سابق وزیراعظم کو خط لکھ کر یہ نیکلیس تین دن میں حکومت کو واپس کرنے کا نوٹس بھجوائے جانے پر سابق وزیراعظم نے یہ ہار نادرا کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ ہار گزشتہ کچھ برسوں سے حکومتی ریکارڈ سے غائب تھا اور اس وقت تک لاپتہ رہا جب تک کچھ روز قبل یوسف رضا گیلانی نے خود اعتراف کیا کہ ہار ان کے پاس ہے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ سرکاری ملکیت ان کی ذاتی جائیداد کا حصہ کیسے بن گئی اور وہ بھی کسی حکومتی اتھارٹی یا مجاز اجازت نامہ کے بغیر۔ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ایک سابق سربراہ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ نیکلیس ان کے ادارے نے خریدا تھا اور بعد میں اسے وزیراعظم ہائوس بھجوایا گیا تھا تاکہ وہاں اسے نمائش کیلئے رکھا جائے۔ تاہم، گیلانی کے وزیراعظم ہائوس سے جانے کے بعد یہ نیکلیس نادرا میں ملا اور نہ ہی وزیراعظم ہائوس سے۔ کچھ ہفتے قبل وزیر داخلہ چوہدری نثار نے گمشدہ ہار کا معاملہ حل کرنے کی خاطر تحقیقات کرانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ وزیر داخلہ کے اعلان کے ایک سے دو دن بعد گیلانی نے خود میڈیا کو بتایا کہ نیکلیس ان کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ترکی کے اردوان خاندان سے ان کی قربت زیادہ ہے اور ترک خاتون اول کو اپنی بہن سمجھتے ہیں لہٰذا وہ یہ نیکلیس اپنے ساتھ لے گئے۔ اگرچہ ایف آئی اے نے پہلے ہی اس معاملے میں تحقیقات شروع کر دی ہے لیکن ادارے کی زیادہ توجہ نادرا کے حکام پر ہے نہ کہ سابق وزیراعظم پر۔ تاہم، نیب کے ذرائع کا ماننا ہے کہ یہ یوسف رضا گیلانی کے خلاف کرپشن کا ٹھوس کیس ہے کیونکہ سرکاری ریکارڈ سے غائب ہونے والا نیکلیس سابق وزیراعظم کے غیر قانونی قبضے سے ملا ہے۔
ترک خاتون اول کا دیا ہوا ہار گیلانی کے گلے کا درد بن گیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)
-
دنیا کے طاقتور اور کمزور پاسپورٹس کی فہرست جاری، سنگاپور کا پہلا نمبر، پاکستان کی حیرت انگیز پوزیشن
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
بہت جلد پٹرول قیمتوں میں کمی کا عندیہ
-
جمائمہ کے ’دوسرے شوہر کیمرون ‘کون ہیں؟ دونوں کی ملاقات کیسےہوئی؟ اہم تفصیلات منظرعام پر
-
راولپنڈی،ہوٹل میں متعدد بار زیادتی کے بعد خاتون حاملہ، پیدا ہونے والی بچی بھی چھین لی گئی
-
سرکاری ملازمین کو ایڈوانس تنخواہیں دینے کا نوٹیفکیشن جاری
-
چودھری پرویز الہٰی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خبروں پر بول پڑے
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
ٹرمپ نے اپنی اور کابینہ ممبرز کی نیم برہنہ تصویر پوسٹ کردی
-
اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
-
راولپنڈی،خاتون سے زیادتی کرنے اور نومولود بچی کو اغوا کرنے والا ہوٹل منیجر گرفتار، بچی بازیاب
-
اسلام آباد سے اغوا نوجوان کی تشدد زدہ لاش صوابی سے برآمد



















































