بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

شیخ رشید نے اعتراف کیا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے وقت وہ ڈرکر ملک سے بھاگ گئے تھے، وفاقی وزیر ریلوے ملک سے باہر کیوں چلے گئے تھے ، حیرت انگیزدعوی کر دیا گیا

datetime 30  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے شیخ رشید نے اعتراف کیا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے وقت وہ ڈرکر ملک سے بھاگ گئے تھے۔وزیر ریلوے شیخ رشید نے آج پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ دھماکوں کے وقت نواز شریف سمیت پوری کابینہ مخالف تھی، دھماکے میں نے، راجا ظفر الحق نے اور ایوب خان نے کیے تھے۔نجی ٹی وی کے مطابق شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ

ایٹمی دھماکوں کے وقت ان کی ڈیوٹی ایسی تھی کہ انہیں ملک سے باہر جانا پڑ گیا، یہ ملکی راز کی بات ہے اور اسے راز میں ہی رہنا چاہیے۔وفاقی وزیر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ شیخ رشید نے اعتراف کیا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے وقت وہ ڈر کر ملک سے بھاگ گئے تھے، مشکل وقت میں وفاداری بدلنے والے آج ایٹم بم کا کریڈٹ لے رہے ہیں۔رانا ثناء اللہ نے کہا شیخ رشید آج اس کا ترجمان ہے جو اسے چپڑاسی رکھنے کو تیار نہ تھا، عمران نیازی اور شیخ رشید کی مشترک نشانی جھوٹ اور یوٹرن ہے۔انھوں نے کہا کہ پنڈی کا شیطان رمضان میں کھلا رہا اورعید کے بعد بھی شیطان کو کھلی چھٹی ہے۔سابق وزیر قانون پنجاب کا کہنا تھا کہ قوم کے آٹا چینی چور نیازی، خسرو اور ترین کرپٹ مافیا ہیں ، عوام انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…