منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

بھارت کی ایم کیو ایم کو فنڈنگ بارے رپورٹ کرنے والے بی بی سی کے صحافی اون بینٹ جونز کا تہلکہ خیزانٹرویومنظر عام پر آگیا

datetime 26  جون‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک بھارت کی طرف سے ایم کیو ایم کو پاکستان کے حالات خراب کرنے کےلئے دی جانے والی فنڈنگ سے متعلق رپورٹ کرنے والے بی بی سی کے صحافی اون بینٹ جونز نے کہا ہے کہ وہ اپنی خبر کی صداقت پر قائم ہوں‘کبھی اس وقت تک رپورٹ نشر نہیں کرتا جب تک تمام ذرائع تصدیق شدہ نہ ہوں‘میرے ذرائع معتبر ہیں‘زیادہ تر اسلام، دہشت گردی کے موضوعات پر لکھتا ہوں‘ایم کیو ایم سے کوئی دلچسپی نہیں ‘وہ اپنی صحافتی سرگرمیوں میں مشغول ہوں‘ایسی سرگرمیوں کی تلاش میں ہوںجو پاکستان اور برطانیہ کے مفاد میں ہوں۔ جمعرات کی شب اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں اون بینٹ جونز نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ اس طرح کی رپورٹ سنجیدہ معاملہ ہے، وہ کبھی اس وقت تک رپورٹ نشر نہیں کرتے جب تک تمام ذرائع تصدیق شدہ نہ ہوں، انہوں نے اپنی خبر میں بھی لکھا کہ ان کے ذرائع معتبر ہیں۔ اس سوال پر کہ ان کی زیادہ تر رپورٹنگ ایم کیو ایم کے حوالے سے ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ جو رپورٹنگ کی وہ متحدہ کے بارے میں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ اسلام، دہشت گردی کے موضوعات پر لکھتے ہیں، ایم کیو ایم کے بارے میں آج تک جو بھی لکھا وہ 10فیصد بھی نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم لندن میں صحافیوں کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے، وہ ہی نہیں دیگر صحافی بھی ایم کیو ایم پر کافی گہری نظر رکھتے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا انہیں اپنی خبر کے ذرائع پر مکمل یقین ہے انہوں نے کہا کہ وہ ذرائع کے معاملے میں نہیں پڑنا چاہتے تاہم اپنی رپورٹ میں دی گئی معلومات پر مکمل یقین ہے اور اپنی خبر پر مکمل طور پر قائم ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا وہ ایم کیو ایم کی طرف سے کی جانے والی کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کا سامنا کریں گے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ اس معاملے میں کوئی کیس ہوگا یا نہیں، اگر مقدمہ درج کیا گیا تو اس میں بھی نہیں جانتا کہ عدالت میں کیا ہوگا یا کون سا مواد بطور ثبوت پیش کیا جائے گا۔ رپورٹ پر بھارتی موقف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارتی ردعمل یہ تھا کہ بی بی سی کے دعوے مکمل طور پر بے بنیاد ہیں، ان کا براہ راست جواب یہ تھا کہ یہ بے بنیاد خبر ہے۔ بھارتی حکام نے سوالات کا جواب دینے کی بجائے صرف تبصرہ کیا ہے۔ اس سوال پر کہ کیا وہ سٹوری کا فالو اپ یا مزید تفصیلات بھی دیں گے، جونز نے کہا کہ انہیں ایم کیو ایم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ اپنی صحافتی سرگرمیوں میں مشغول ہیں اور ایسی سرگرمیوں کی تلاش میں ہیں جو پاکستان اور برطانیہ کے مفاد میں ہوں۔ ان کا ایم کیو ایم کے معاملے پر مزید مواد سامنے لانے کا کوئی ارادہ نہیں، وہ مزید کئی ایشوز پر بھی کام کر رہے ہیں۔ ان سے ایک مرتبہ پھر یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ اپنی خبر کے ذرائع پر قائم ہیں، اس پر جونز نے کہا کہ اپنی خبر کے ذرائع پر یقین نہ ہوتا تو نشر بھی نہ کرتے۔ بی بی سی خبروں کا سنجیدہ ادارہ ہے جو خبروں کی بہت زیادہ تصدیق کرتا ہے۔ وہ اپنی رپورٹ سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم رپورٹ پر مکمل طور پر قائم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…