منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

بھارت کی ایم کیو ایم کو فنڈنگ بارے رپورٹ کرنے والے بی بی سی کے صحافی اون بینٹ جونز کا تہلکہ خیزانٹرویومنظر عام پر آگیا

datetime 26  جون‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک بھارت کی طرف سے ایم کیو ایم کو پاکستان کے حالات خراب کرنے کےلئے دی جانے والی فنڈنگ سے متعلق رپورٹ کرنے والے بی بی سی کے صحافی اون بینٹ جونز نے کہا ہے کہ وہ اپنی خبر کی صداقت پر قائم ہوں‘کبھی اس وقت تک رپورٹ نشر نہیں کرتا جب تک تمام ذرائع تصدیق شدہ نہ ہوں‘میرے ذرائع معتبر ہیں‘زیادہ تر اسلام، دہشت گردی کے موضوعات پر لکھتا ہوں‘ایم کیو ایم سے کوئی دلچسپی نہیں ‘وہ اپنی صحافتی سرگرمیوں میں مشغول ہوں‘ایسی سرگرمیوں کی تلاش میں ہوںجو پاکستان اور برطانیہ کے مفاد میں ہوں۔ جمعرات کی شب اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں اون بینٹ جونز نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ اس طرح کی رپورٹ سنجیدہ معاملہ ہے، وہ کبھی اس وقت تک رپورٹ نشر نہیں کرتے جب تک تمام ذرائع تصدیق شدہ نہ ہوں، انہوں نے اپنی خبر میں بھی لکھا کہ ان کے ذرائع معتبر ہیں۔ اس سوال پر کہ ان کی زیادہ تر رپورٹنگ ایم کیو ایم کے حوالے سے ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ جو رپورٹنگ کی وہ متحدہ کے بارے میں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ اسلام، دہشت گردی کے موضوعات پر لکھتے ہیں، ایم کیو ایم کے بارے میں آج تک جو بھی لکھا وہ 10فیصد بھی نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم لندن میں صحافیوں کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہے، وہ ہی نہیں دیگر صحافی بھی ایم کیو ایم پر کافی گہری نظر رکھتے ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا انہیں اپنی خبر کے ذرائع پر مکمل یقین ہے انہوں نے کہا کہ وہ ذرائع کے معاملے میں نہیں پڑنا چاہتے تاہم اپنی رپورٹ میں دی گئی معلومات پر مکمل یقین ہے اور اپنی خبر پر مکمل طور پر قائم ہیں۔ اس سوال پر کہ کیا وہ ایم کیو ایم کی طرف سے کی جانے والی کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کا سامنا کریں گے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ اس معاملے میں کوئی کیس ہوگا یا نہیں، اگر مقدمہ درج کیا گیا تو اس میں بھی نہیں جانتا کہ عدالت میں کیا ہوگا یا کون سا مواد بطور ثبوت پیش کیا جائے گا۔ رپورٹ پر بھارتی موقف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارتی ردعمل یہ تھا کہ بی بی سی کے دعوے مکمل طور پر بے بنیاد ہیں، ان کا براہ راست جواب یہ تھا کہ یہ بے بنیاد خبر ہے۔ بھارتی حکام نے سوالات کا جواب دینے کی بجائے صرف تبصرہ کیا ہے۔ اس سوال پر کہ کیا وہ سٹوری کا فالو اپ یا مزید تفصیلات بھی دیں گے، جونز نے کہا کہ انہیں ایم کیو ایم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ اپنی صحافتی سرگرمیوں میں مشغول ہیں اور ایسی سرگرمیوں کی تلاش میں ہیں جو پاکستان اور برطانیہ کے مفاد میں ہوں۔ ان کا ایم کیو ایم کے معاملے پر مزید مواد سامنے لانے کا کوئی ارادہ نہیں، وہ مزید کئی ایشوز پر بھی کام کر رہے ہیں۔ ان سے ایک مرتبہ پھر یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ اپنی خبر کے ذرائع پر قائم ہیں، اس پر جونز نے کہا کہ اپنی خبر کے ذرائع پر یقین نہ ہوتا تو نشر بھی نہ کرتے۔ بی بی سی خبروں کا سنجیدہ ادارہ ہے جو خبروں کی بہت زیادہ تصدیق کرتا ہے۔ وہ اپنی رپورٹ سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم رپورٹ پر مکمل طور پر قائم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…