جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ساڑھے 8 ہزار میگا واٹ بجلی صرف ایئر کنڈیشن کی نظر ہو جاتی ہے ،عابدشیرعلی

datetime 24  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا ہے کہ ساڑھے 8 ہزار میگا واٹ بجلی صرف ایئر کنڈیشن کی نظر ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے ٹرانسفارمر اڑتے ہیں، ملک بھر میں 85 سے 90 فیصد علاقوں میں سحر و افطار کے اوقات کار میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی، منگل کو آئیسکو ہیڈ کوارٹر میں افطار ڈنر کے موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ درجہ حرارت بڑ ھنے سے اچانک بجلی کی طلب ساڑھے 18 ہزار سے 21 ہزار تک پہنچ گئی، انہوں نے کہاکہ شہری علاقوں میں 6 ،دیہات میں 8 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہاکہ حکومت محدود مسائل کے باوجود عوام کی ضرورت سے بخوبی آگاہ ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ بجلی بحران پر جلد قابو پا لیں،گزشتہ 3اہ سے ٹرانسفارمروں کی خریداری شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جو6 لاکھ میں خر یدے جاتے تھے وہ 3 لاکھ روپے میں خرید کر اربوں روپے کی بچت کی۔ انہوں نے کہاکہ ملک بھرمیں 10 سے 12 لاکھ ایئر کنڈیشن فروخت ہوئے ہیں۔ عابد شیر علی نے کہاکہ پشاور میں 4 گھنٹے اور لاڑکانہ میں 6 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے 1400 میگا واٹ بجلی مانگی تھی ہم 1457 میگا واٹ بجلی دے رہے ہیں اب اس بجلی کو ایڈجسٹ کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان میں اس سے قبل ساڑھے 4 سو میگا واٹ سے زائد بجلی نہیں دے سکتے تھے لیکن اب اپ گریڈیشن کے بعد ساڑھے 7 سو میگا واٹ بجلی دے رہے ہیں، انہوں نے کہاکہ کراچی میں ساڑھے 5 سو اموات کا ہمیں بھی شدید دکھ ہے ، ان کے خاندانوں کے ساتھ اظہار افسوس کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت اب بھی ساڑھے 6 سو میگا واٹ بجلی کے الیکٹرک کو فراہم کر رہی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے مختلف ڈسکوز کے ہیڈز کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دئیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…