پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

درآمدات 15.3 ،برآمدات میں 8.7 فیصد کی کمی، کرونا وائرس کی وجہ سے امریکی معیشت ہل کر رہ گئی

datetime 30  اپریل‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی ادارے بیورو آف اکنامک تجزیہ (بی ای اے) نے کہاہے کہ کورونا وائرس کے باعث مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے حساب سے امریکی شرح نمو سالانہ بنیاد پر 4.8 فیصد کمی سے دوچار ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ماہر اقتصادیات شرح نمو میں 4.8 فیصد کمی گریٹ ڈپریشن سے بھی کہیں زیادہ قرار دے رہے ہیں۔

اعداد و شمار سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ امریکی معیشت تیزی سے کساد بازاری میں داخل ہو رہی ہے۔بی ای اے کی جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں کمی دراصل مارچ میں حکومتوں کی جانب سے وائرس کے تناظر میں لوگوں کو گھروں میں رہنے کے حکم سے واقع ہوئی۔ادارے کے مطابق اس کے نتیجے طلب میں تیزی سے تبدیلی ہوئی، کاروباری سرگرمیاں اور اسکول بند ہوگئے یا انہوں نے اپنے امور منسوخ کردیے، صارفین نے اپنے اخراجات کو منسوخ، محدود یا ری ڈائریکٹ کردیا۔کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر طلب میں کمی کے باعث امریکی درآمدات 15.3 فیصد جبکہ برآمدات میں 8.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔علاوہ ازیں بتایا گیا کہ کاروباری سرمایہ کاری میں 8.6 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔اس ضمن میں معاشی ماہرین نے موجودہ سہ ماہی کے لیے مزید خراب صورتحال کی پیشگوئی کی ہے۔واضح رہے کہ امریکی سینیٹ کورونا وائرس کے سبب ہنگامی صورتحال کے پیش نظر 20 کھرب ڈالر کے امدادی پیکج کی منظوری دے چکی ہے۔کانگریس کی جانب سے منظور امریکی تاریخ کے سب سے بڑے امدادی پیکج کے تحت 500 ارب ڈالر وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صنعتی شعبے کی مدد کی جائے گی جبکہ 3 ہزار ڈالر فی کس امریکا کے لاکھوں خاندانوں میں امداد کے طور پر تقسیم کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ چھوٹے کاروباروں کو قرض کے لیے 350 ارب ڈالر، بیروزگاروں کی مدد کے لیے 250 ارب ڈالر اور ہسپتال سمیت نظام صحت کے لیے 100 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کی قیمت تاریخ میں پہلی بار منفی سطح پر چلی گئی جس کے بعد وال اسٹریٹ میں بھی شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا۔امریکی بینچ مارک ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) مئی کی ڈیلوری کے لیے منفی 37.63 ڈالر فی بیرل کی سطح پر بند ہوا۔یعنی خام تیل کے فروخت کنندہ خریدار کو تیل کے ساتھ ساتھ 37.63 ڈالر فی بیرل دینے پر مجبور ہوگئے۔اس کی وجہ مارکیٹ میں ضرورت سے زیادہ رسد بنی جو سعودی تیل کی پیداوار بڑھانے کا نتیجہ تھا۔اس وجہ سے تیل ذخیرہ کرنے کے لیے جگہ کم پڑگئی اور کمپنیاں خریداروں کو تیل اپنے اسٹوریج سے اٹھانے کے لیے خرچہ دینے پر مجبور ہوگئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…