ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

’’طارق جمیل ڈاکٹر تو نہ بن سکا لیکن مولانا بن گیا ،آخر آج ان پریہ غصہ کیوں؟‘‘والد نے یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا کہ ’’تمہیں لاہور ڈاکٹر بننے کے لئے بھیجا تھا مولوی نہیں، کیا ہم زمینداروں کے بچے مولوی بنیں گے؟‘‘طار ق جمیل کو ڈاکٹر کی بجائے مولانا بننے کیلئے کونسی قیمت ہر بار ادا کرنا پڑی؟ تہلکہ خیز انکشافات 

datetime 28  اپریل‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار مظہر برلاس اپنے کالم ’’مولانا طارق جمیل پر غصہ کیوں؟‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔قدرت راستوں کا تعین کرتی ہے، انسانوں کے بس میں یہ بھی نہیں۔ طارق جمیل کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ جب والد نے سینٹرل ماڈل اسکول لاہور میں داخل کرایا تو اس وقت طارق جمیل زمینداروں کا ایک بچہ تھا، میاں چنوں کے پاس ان کا آبائی علاقہ تلمبہ زمینداروں کی وجہ سے نہیں

، اہل طرب کی وجہ سے مشہور ہے مگر اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ وہاں کے بڑے زمیندار سہو ہیں، طارق جمیل، چوہان راجپوتوں کے قبیلے سہو سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا خاندان شیر شاہ سوری کے دور میں تلمبہ کا حکمران تھا، تلمبہ کے آس پاس زمینیں اسی خاندان نے تقسیم کیں۔ میٹرک کے بعد طارق جمیل نے گورنمنٹ کالج لاہور پہنچ کر راوین بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1969ء میں گورنمنٹ کالج کے اقبال ہوسٹل میں عزیز اللہ نیازی اور طارق جمیل روم میٹ تھے، دونوں ہاکی کے کھلاڑی تھے، طارق جمیل شاندار گلوکار بھی تھا۔ ایک دن عزیز اللہ نیازی، طارق جمیل کو رائے ونڈ لے گیا، اقبال ہاسٹل سے ایک اور طالب علم ارشد اولکھ بھی رائے ونڈ گیا۔ عزیز اللہ نیازی خود تو واپس آ گیا مگر طارق جمیل کا وہاں دل لگ گیا۔ ایف ایس سی کے بعد کنگ ایڈورڈ میں داخلہ ہوا مگر وہ میڈیکل کے بجائے دین کی طرف راغب ہو گیا۔ وہ ڈاکٹر تو نہ بن سکا البتہ مولانا بن گیا۔ بظاہر ڈاکٹر نہ بن سکنے والے نے بے شمار انسانوں کا علاج کیا، لاکھوں انسانوں کی روحوں کو سکون بخشنے والے طور طریقے بتائے۔ رب لم یزل نے اسے شہرت سے بہت نوازا۔ اس مسیحائی کی اسے کئی مرتبہ قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔ والد نے یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا کہ ’’تمہیں لاہور ڈاکٹر بننے کے لئے بھیجا تھا، مولوی نہیں، کیا ہم زمینداروں کے بچے مولوی بنیں گے؟‘‘ ایک قیمت چند دن پہلے بھی ادا کرنا پڑی، ان کی باتوں پر میڈیا کے چند لوگ غصے میں آ گئے، وہ غصے میں کیوں آئے، اس پہ بعد میں بات کرتے ہیں، پہلے معاشرے کی تصویر کا ایک رخ دیکھ لیجئے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…