جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

کراچی,مردہ خانوں میں جگہ نہیں، قبر 50 ہزار روپے تک جا پہنچی

datetime 24  جون‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)کراچی میں شدید گرمی نے سیکڑوں افراد کی جان لے لی ہے، اس المیے کا ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مردہ خانوں میں میتیں رکھنے کی جگہ نہیں، جبکہ قبرستان میں قبر ملنا دشوار ہوگیا ہے۔کراچی میں پڑنے والی قیامت خیز گرمی نے سیکڑوں لوگوں سے ان کی زندگیاں چھین لی اور ہزاروں لوگ اسپتال میں موت اور زندگی کی کشمکش میں ہیں، تاہم جو لوگ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے، مرنے کے بعد بھی ان کی میتوں کو سکون نصیب نہ ہوسکا۔ لاشیں منتقل کرنے کے لیےایمبولینسیں نہیں، مردہ خانوں میں جگہ نہ ہونے کے باعث ان کے پیاروں لاش خراب نہ ہوجائے اس ڈر سے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ مرنے کے بعد مسلمانوں پر غسل فرض ہے تاہم یہ فریضہ بھی مسلمانوں نے ہی مسلمانوں کے لیے مشکل کردیا ہے۔ غسل اور کفن میں استعمال ہونے والی اشیاء پر منافع خور اپنا دھندا چمکا رہے ہیں۔ اتنی زیادہ تعداد میں ہلاکتوں کے بعد مختلف قبرستانوں میں بھی رش بڑھ گیا ہے اور گورکن مافیا نے اسے اپنے دھندا تصور کر لیا ہے۔ چند ہزار میں بکنے والی قبر کی قیمت 50ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ایک جانب اپنے پیاروں سے جدائی کا غم تو دوسری جانب ان کے غسل، کفن اور تدفین میں مشکلات نے شہریوں پر زندگی تنگ کردی ہے اور اس صورتحال کو دیکھ کر صرف یہی الفاظ منہ سے نکلتے ہیں کہ مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…