جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

فوج کےخلاف آصف زر داری کابیان ،تنازع حل ہو گیا

datetime 23  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)مسلم لیگ (ن )کے رہنما اور ماحولیات کے وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے فوج کی موجودہ قیادت کے خلاف پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے بیان کی وضاحت کے بعد ان کے ساتھ تنازع حل ہو چکا ہے تاہم کراچی میں رینجرز کا آپریشن جاری رہے گا۔بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے آصف زرداری کا بیان واپس لے لیا ہے اور ایسی صورت حال میں حکومت کا بھی ان کے ساتھ گلہ شکوہ ختم ہو گیا ہے۔ایک طرح سے انھوں نے اپنا بیان واپس لے لیا ہے آپ جب اس طرح کی تردیدیں کرتے ہیں تو آپ کہنا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ آپ پہلے بیان پر قائم نہیں ہیں تو جب اس بیان کو کسی نے اپنایا نہیں ہمیں کیا ضرورت ہے کسی کو اس میں گھسیٹنے کی۔مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ان کی جماعت میثاقِ جمہوریت کی پابند ہے اور اب پیپلز پارٹی سے تلخی ختم ہو چکی ہے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہمارے تعلقات برقرار رہیں گے کیونکہ ان کے اندر بھی ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، جن کی پیپلز پارٹی کے لیے قربانیاں ہیں، اور ہمارے پیپلز پارٹی سے تعلقات کی بنیاد میثاق جمہوریت ہے۔ ہم اس سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے اور پیپلز پارٹی کو ساتھ لے کر چلیں گے۔مشاہد اللہ خان نے کہاکہ پیپلز پارٹی اور اس کے سربراہ آصف زرداری کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے باوجود کراچی میں رینجرز کا آپریشن جاری رہے گا کیونکہ یہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے شروع ہوا تھا۔آپریشن ضربِ عضب ہو یا کراچی میں رینجرز کی کارروائی یہ سب آپریشن پیپلز پارٹی اور آصف زرداری سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی اجازت اور دستخط سے ہو رہے ہیں۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان آپریشنز کو منطقی انجام تک پہنچائے۔ایک سوال پر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ویسے تو اس متنازع بیان کا مسئلہ حل ہو چکا ہے تاہم یہ بات درست ہے کہ آصف زرداری نے فوج کے خلاف بیان سندھ میں خرابِ طرز حکمرانی پر ہونے والی تنقید سے گھبرا کر جاری کیا تھابنیادی طور پر معاملہ گورننس کا ہے، خاص طور پر سندھ کا۔ وہاں کی جو منتخب جماعتیں ہیں انھوں نے وہاں کے عوام کو کیا دیا ہے؟ اس کے علاوہ وہاں خوفناک قسم کی کرپشن ہوئی ہے۔ اس کرپشن کو روکنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور اگر خود حکومت کے لوگ اس میں ملوث ہیں تو ان کے سامنے بھی رکاوٹ کھڑی کرنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…