پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس : سبزیوں کی قیمتیں 10 سال کی کم ترین سطح پر آگئیں بحران کے دوران 500روپے تک بکنے والا ٹماٹر 8روپے کلو ، بھنڈی 30 روپے لوکی و بیگن 10 روپے، ہری مرچ 15 روپے کلو، پریشان عوام کیلئے بڑی خوشخبری

datetime 17  اپریل‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) لاک ڈائون کی وجہ سے سبزیوں کی گھریلو اور کمرشل طلب میں غیرمعمولی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے سبزی منڈی میں سبزیوں کی فروخت 70 فیصد تک کم ہوگئی اور سبزیوں کی قیمتیں 10 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہیں۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق سبزی منڈی میں اچھی قیمت نہ ملنے کا تمام نقصان سبزی کے کاشت کاروں کو پہنچ رہا ہے جو اب منڈی کو سبزی کی سپلائی کے بجائے

تیار فصلوں کو کھیتوں میں ہی تلف کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔سبزی منڈی میں سبزیوں کے بیوپاری بھی صورتحال سے پریشان ہیں تاہم شہر میں خوردہ سطح پر اب بھی سبزیاں مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہیں اور سبزی منڈی کے مقابلے میں شہر کی دکانوں پر سبزیاں تین گنا زائد قیمت پر فروخت ہورہی ہیں۔کراچی سبزی منڈی میں سبزیوں کے تھوک بیوپاری عرفان انڈس نے بتایا کہ سبزی منڈی میں بھنڈی 30 روپے کلو، ٹماٹر 8 روپے کلو، لوکی اور بیگن 10 روپے کلو، 200 روپے کلو فروخت ہونے والی مرچ 15 روپے کلو فروخت ہورہی ہے، مٹر 55 روپے کلو، پالک 5 روپے کی گڈی دھنیا پودینہ ایک روپے کی دو گڈیاں فروخت ہورہی ہیں۔اسی طرح گوبھی 10سے 12روپے کلو، توری 15روپے کلو فروخت کی جارہی ہے۔ آلو کی تھوک قیمت 25 سے 28روپے کلو کی سطح پر آچکی ہے ایکسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پیاز بھی 30 روپے کلو فروخت ہورہی ہے۔مارکیٹ کمیٹی کے رکن سلیمان خواجہ کے مطابق اس صورتحال میں سبزیوں کے کاشت کار بھاری نقصان کا سامامنا کر رہے ہیں ٹماٹر کی فصل لگانے والے کاشت کاروں نے کھیتوں میں ہی تیار فصل ضایع کردی ہے کیونکہ ترسیل کی لاگت اٹھانے کے بعد منڈی میں 8 روپے کلو فروخت ہونے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں الٹا کرایہ اپنی جیب سے دینا پڑرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اضافی پیداوار کو اس وقت کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کرکے فارمرز کو نقصان سے بچایا جاسکتا ہے لیکن سندھ میں اسٹوریج کی سہولت نہیں ہے اور کراچی میں اسٹوریج کی گنجائش پہلے ہی ختم ہوچکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…