اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

گوشت، چینی، آٹا، سبزی اور دیگر اشیا خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ، کرونا وائرس کی وباء کے باوجود منافع خور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگے

datetime 16  اپریل‬‮  2020 |

کوئٹہ(آن لائن) کوروناوائرس کے وبا کے باوجود منافع خوروں نے عوام کو لوٹنا شروع کردیا سبزیوں ،گوشت اور دیگر اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا گیا پرائس کنٹرول کمیٹی غائب شہر کے بیشتر یوٹیلٹی سٹورز پر چینی اور آٹا کی قلت تفصیلات کے مطابق لاک ڈاون کے دوران صوبائی دارالحکومت میں مصنوعی مہنگائی کا طوفان آ گیا گوشت، چینی، آٹا، سبزی اور دیگر اشیا خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا

جبکہ شہر کے اکثر یوٹیلیٹی اسٹورز سے بھی آٹا اور چینی غائب ہوگیا منافع خوروں نے موقع سیفائدہ اٹھاکر چینی کی قیمت میں پانچ روپے فی کلو اضافے کے بعد 85 روپے فی کلو 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 100 روپے اضافے کے بعد 1100 روپے میں فروخت کررہے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں آٹے کا 20 کلو کا تھیلا ا یک ہزار 150 روپے میں بھی فروخت کیا جا رہا ہے انتظامیہ نے آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت ایک ہزار روپے مقرر کر رکھی ہے۔دوسری جانب گائے اور بکرے کے گوشت کی اضافی قیمت پر فروخت بھی جاری ہے، بغیر ہڈی کیگائے کا گوشت مقررہ نرخ 480 روپے کی بجائے 560 سے 580 روپے فی کلو میں بکرے کا گوشت مقررہ 780 روپے کی بجائے ایک ہزار روپے فی کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے مہنگائی کے اس طوفان میں شہر کے بیشتر یوٹیلیٹی اسٹورز پر سے آٹا اور چینی غائب ہو گئی ہے۔یوٹیلیٹی اسٹور انتظامیہ کے مطابق آٹے اور چینی کی سپلائی قلیل مقدار میں ہوتی ہے، یوٹیلیٹی اسٹورز پر جتنا آٹا اور چینی آتی ہے فورا ہی فروخت ہو جاتی ہے۔واضع رہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر 20 کلو فائن آٹے کی قیمت 800 روپے رکھی گئی ہے، جبکہ چینی کی فی کلو قیمت 68 روپے مقر ر کی گئی ہے، لیکن وہاں سے شہری خالی ہاتھ آنے پر مجبور ہے قیمتوں میں اضافے نے شہریوں کو مشکلات میں مبتلا کر دیاجس سے غریب طبقہ ذہنی کوفت کا شکار ہو گئے ہیں،جبکہ پرائس کنٹرول کمیٹی بھی سرکاری لسٹ پر عمل درآمد کروانے سے قاصر ہے جس کے باعژ منافع خور بلا ضوف شہر میں مصنوعی مہنگائی لارہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…