منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

بھارت رقبے سے اعتبار سے بڑا ہے لیکن جذبے میں نہیں، خورشید شاہ

datetime 23  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) قائدحزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ بیان سے ثابت ہوگیا ہے کہ پاکستان کو توڑنے اور بنگلا دیش بنانے میں بھارت کا کردار تھا اس لئے بھارت نے پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔پارلیمنٹ میں بجٹ بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم کا بنگلادیش میں بیان قابل مذمت ہے جس پر دفترخارجہ کو بیان کی مذمت کرنی چاہیئے جب کہ اشارے ملتے رہے ہیں کہ پاکستان میں اور خاص طور پر بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں بھارت ملوث رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت رقبے سے اعتبار سے بڑا ہے لیکن جذبے میں نہیں، آج بھی پاکستانی قوم میں مذہبی جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے، پاکستان تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہاں رہا ہے اور پاکستان مخالف سوچ کا اظہار بنگلادیش میں بھارتی وزیراعظم کے بیان سے ہوا ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ تمام ادارے پارلیمنٹ کےماتحت ہیں یہ بات سب کے ذہن میں بیٹھ جانی چاہیے، کسی ڈکٹیٹرکوپھانسی ہوئی نہ جلاوطن کیا گیا نہ گولی ماری گئی، سیاستدانوں کے ساتھ یہ سب کچھ ہوتا آیا ہے، جب بھی ریاست کی بات آئے گی اپوزیشن حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی اور پارلیمنٹ ہی عوام کے مسائل کا حل نکال سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے ہر کام چین کردے لیکن ہم کہتے ہیں کچھ خود بھی کرلو، بجلی بحران سب کے لئے مسئلہ ہے لیکن حکومت سیاست کو اہمیت دے رہی ہے، نندی پورمنصوبے پراربوں روپیہ لگایا گیا وہ ایک دن نہ چلا قوم کو اس کا حساب دیا جائے جب کہ (ن) لیگ نےمنشور میں کہا کہ 6 ماہ میں بجلی لے آئیں گے اوراب 2018 کی بات ہورہی ہے۔اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ایسا بجٹ لا کرمسلم لیگ (ن) عوام کے جذبات سے کھیلی ہے، ہم نے اپنے دورمیں دہشتگردی، مالی بحران، ازخود نوٹس جیسے حالات کا مقابلہ کیا جب کہ توانائی بحران ورثے میں ملا اورسوات میں بڑا آپریشن کیا، ہم ایل این جی لا رہے تھے تو کرپشن کا الزام لگا دیا گیا لیکن آج ایل این جی موجودہ حکومت لا رہی ہے تو قیمت تک کا پتا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں ایک بار پھرخزانہ خالی ہونے کارونا رویا گیا جب کہ زرعی شعبے کو تباہ کیا جارہا ہے اگریہ تباہ ہوا تو ملک تباہ ہوجائے گا۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ بجٹ میں مڈل کلاس، سفید پوش اورمجبورطبقے کا خیال رکھا جائے، ہم جھنڈے والی گاڑیوں میں ہوتے ہیں اور پولیس والا 24 گھنٹے دھوپ میں اپنی ڈیوٹی کرتا ہےاس لئے بجٹ میں پولیس کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے اورسرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کیا جائے، بے نظیرانکم سپورٹ کی امدادی رقم 1500 روپے سے بڑھا کر 2 ہزار روپے کی جائے جب کہ حکومت نے ہوائی جہازوں کے پرزوں پر ٹیکس چھوٹ دے دی اور پولٹری پر10 فیصد ٹیکس لگا دیا جوقابل قبول نہیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ کم کرنے سے خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا ہمارے دور حکومت میں پوری دنیا میں بدترین معاشی حالات تھے لیکن اب ایسا نہیں اس لئے بجٹ پر تحفظات ہیں، بجلی کی قیمتیں آسمان پر جا پہنچی ہیں اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…