جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

سرحدیں بند ، بحری جہاز لنگر انداز، پروازیں معطل ،کورونا وائرس وبا کے باعث دنیا میں کس چیز کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا؟اقوام متحدہ نے خبر دار کردیا

datetime 14  اپریل‬‮  2020 |

نیویارک(این این آئی)اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا کی باعث دنیا بھر میں خوراک کی فراہمی کا پیچیدہ اور باہم منسلک نظام شدید متاثر ہورہا ہے جس سے عالمی سطح پر خوراک کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق عالمی ادارہ برائے خوراک(ایف اے او)نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اگرچہ اب بھی اکثر ممالک کی دکانوں اور اسٹور میں اشیائے خورونوش موجود ہیں لیکن اس بحران سے عالمی خوراک کے پورے نظام پر دبا بڑھ چکا ہے جس کے تدارک کے لیے خاص اقدامات کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت سرحدیں بند ہیں، بحری جہاز لنگر انداز ہیں اور پروازیں معطل ہیں جس کی وجہ سے خوراک کی عالمی ترسیل جامد ہوچکی ہے جبکہ غذائوں سے بھرے گودام اور کنٹینر اپنی منزل پر پہنچنے کے انتظار میں ہے۔اقوامِ متحدہ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ عالمی خوراک کے تحفظ کو شدید دھچکا لگا ہے جس سے انتہائی غریب ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔کووڈ وبا کے پس منظر میں ادارے نے دنیا بھر کی امدادی تنظیموں، بین الاقوامی اداروں اور نجی کمپنیوں سے منظم حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی کی درخواست کی ہے۔ رپورٹ میں آسٹریلیا جیسے صرف ایک ملک کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ ایشیا اور اطراف کے ممالک تک اپنی دوتہائی زرعی برآمدات پہنچاتا ہے جس کے بند ہونے سے ان ممالک میں خوراک کی قلت پیدا ہوگئی ہے لیکن اب بھی اسے بحران نہیں کہا جاسکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…