اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

اجتماعی نماز انفیکشن کا سبب نہیں بن سکتی، بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے اپنی رائے دے دی

datetime 13  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)عالمی مارکیٹنگ اور تحقیقی ادارے اِپ سوس (آئی پی ایس او ایس) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 88 فیصد لوگ کورونا وائرس کے بارے میں جانتے ہیں جن کی اکثریت کو مہلک وبا سے متعلق معلومات مقامی میڈیا نے پہنچائیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستانیوں کی کورونا وائرس کے بارے میں معلومات میں فروری سے اب تک 19 فیصد اضافہ ہوا ہے،

فروری سے اب تک ہاتھ دھونے والے پاکستانیوں کی تعداد میں 47 فیصد سے 89 فیصد اضافہ ہوا ہے تاہم ایک تہائی پاکستانی اب بھی مصافحہ کرتے ہیں اور گلے ملتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ 7 ہفتوں میں یہ احساس زیادہ ہوا ہے کہ کورونا پاکستان کے لیے خطرہ بن رہا ہے، 5 میں سے 2 یا 38 فیصد پاکستانیوں کو کورونا کی سرکاری ہیلپ لائن کا پتہ ہے جبکہ 5 میں سے 3 یا 61 فیصد پاکستانیوں کو وبا کے حوالے سے امداد دینے والی تنظیموں کا علم ہے۔عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 56 فیصد پاکستانیوں کے نزدیک مساجد اور دیگر مذہی مقامات کو ریلیف کی تقسیم کیلئے استعمال ہونا چاہیے جبکہ 82 فیصد پاکستانیوں کے خیال میں دن میں 5 بار وضو کرلینے سے کورونا وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 67 فیصد کے نزدیک باقاعدہ بھاپ لینا بچت کا ذریعہ ہے جبکہ 67 فیصد کہتے ہیں وائرس سمیت ہر چیز اللہ کے کنٹرول میں ہے لہٰذا اجتماعی نماز کسی انفیکشن کا سبب نہیں بن سکتی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ہر 5 میں سے 2 یا 43 فیصد پاکستانیوں کے نزدیک کورونا وائرس ایک مخصوص فرقے کی وجہ سے پھیلا جبکہ 30 فیصد کے مطابق سماجی میل جول اور 43 فیصد کے مطابق وائرس کے پیچھے عالمی سازش ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستانیوں کی کثیر تعداد کو کوروناسے متعلق معلومات مقامی میڈیا نے پہنچائیں تاہم حکومت صرف 5 فیصد پاکستانیوں کو آگاہ کرسکی جبکہ 5 میں سے 2 پاکستانیوں کو ٹائیگر فورس کے بارے میں علم ہے، 45 فیصد پاکستانیوں کے مطابق ٹائیگر فورس کی بجائے لوکل گورنمنٹ بہتر حل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…