اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

کینیڈا سے وطن پہنچنے والےپی آئی اے کے 2 پائلٹس میں کورونا وائرس کی تصدیق

datetime 6  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد ( این این آئی) کینیڈا سے پاکستان آنے والی پاکستانی انٹرنیشنل ائیر لائنز کے دو پائلٹس میں کورونا وائرس کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ دونوں متاثرہ پائلٹس کو لاہور کے نجی اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔پی آئی اے کا یہ عملہ ٹورنٹو سے پرواز لے کر ملک واپس پہنچا تھا۔عملے میں کرونا وائرس کی کچھ علامات ظاہر ہوئی تھیں جس کے بعد محکمہ صحت نے پی آئی اے کے دونوں پائلٹس اور عملے سمیت دیگر ارکان کے

کرونا ٹیسٹ کیے ۔تاہم دونوں پائلٹس کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد لاہور کے نجی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔جبکہ عملے کے باقی تین ارکان کو بھی الگ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔قبل ازیں ٹورنٹو اور استنبول سے اسلام آباد آنے والے کئی مسافروں کے کورونا ٹیسٹ پازیٹو آنے کا انکشاف ہوا ہے۔دوسری جانب پی آئی اے کے پائلٹس کے جہاز اڑانے سے انکار کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔پائلٹس کا مؤقف ہےکہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ہدایات پرعمل نہیں کیا جا رہا۔پائلٹس اورکیبن کریو کے مطابق کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے فراہم کیا گیا حفاظتی سامان ناکافی ہے۔کینیڈا سے واپسی پر طیارے میں اسپرے کے بغیر استنبول سے پاکستانیوں کو سوار کرایا گیا، ناکافی حفاظتی انتظامات پر کپتانوں نے ڈی بریف نوٹ لکھ دیا۔قومی ائیر لائن کے جہازوں کے عملے کے مطابق اسلام آباد سے گلگت جانے والی پرواز میں جراثیم کش اسپرے تک نہیں کیا گیا جب کہ کینیڈا جانے والی پروازمیں 40 فیصد مسافر ماسک کے بغیر سوار ہوئے، کپتان کی نشاندہی پر ماسک جہاز میں پہنچائے گئے جس سے جہاز 34 منٹ تاخیر سے روانہ ہوا۔اس کے علاوہ کینیڈا سےآنی والی پرواز پر مسافروں کی اسکریننگ کی تفصیلات ہی فراہم نہیں کی گئیں۔یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پی آئی اے عملے کو ماسک اور گلووز نہ صرف کم بلکہ ناقص معیار کے دیئے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…