بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

کتنے پاکستانی اس وقت بیرون ملک جیلوں میں قید ہیں،حیر ت انگیز انکشاف

datetime 22  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) دفتر خارجہ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ساڑھے آٹھ ہزار پاکستانی اس وقت بیرون ملک جیلوں میں قید ہیں جن میں سے زیادہ تر افراد منشیات سے متعلقہ جرائم میں ملوث ہیں۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ نے بیرون ملک پاکستانیوں کو سزائے موت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سوموار کو ایوان پارلیمان میں ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے دفتر خارجہ کو ہدایت کی ہے تمام بیرون ملک قید پاکستانیوں کو قانونی معاونت یقینی بنائی جائے۔ کمیٹی نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ پاکستانی قیدیوں کو وکلا اور مترجم کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اراکین کمیٹی کا کہنا تھا کہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کسی بھی پاکستانی کو پھانسی یا سرقلم نہیں کیا جانا چاہئیے۔ چئیرمین قائمہ کمیٹی اویس لغاری کا کہنا تھا کہ بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی مزدوروں کی مخدوش صورتحال نہایت تشویشناک امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب قیدیوں کو وکلا کی مفت خدمات فراہم کی جانی چاہئیں۔ دفتر خارجہ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ساڑھے آٹھ ہزار پاکستانی اس وقت بیرون ملک جیلوں میں قید ہیں جن میں سے زیادہ تر افراد منشیات سے متعلقہ جرائم میں ملوث ہیں۔ چئیرمین اویس لغاری کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ متعلقہ محکموں کے ساتھ تعاون کے ذریعے منشیات کی ترسیل کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اراکین کمیٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہوائی اڈوں پر سخت تلاشی کا نظام متعارف کرائے جائے تا کہ منشیات لیجانے والے افراد کو یہیں پر گرفتار کیا جاسکے اور خلیجی ممالک میں آئے روز پاکستانیوں کے سرقلم کرنے کے واقعات کم ہوسکیں۔ اگر یہ جرائم جاری رہتے ہیں تو کسٹم حکام، انٹی نارکوٹکس فورس اور امیگریشن حکام کو بھی احتساب کے دائرے میں لایا جانا چاہئیے۔ چئیرمین اویس لغاری اور دیگر اراکین کمیٹی نے پاکستان کا تاثر بہتر کرنے کے لیے پارلیمانی وفود سے رابطے بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ چئیرمین نے دفتر خارجہ کو ہدایت جاری کی کہ وہ پاکستان آنے والے وفود کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹیوں سے ملاقات کا اہتمام کریں۔ کمیٹی کو بتایا گہ کہ تاحال ڈھائی ملین پاکستانیوں کا پاس مشین ریڈایبل پاسپورٹس نہیں ہیں۔ کمیٹی نے دفتر خارجہ کو وزارت داخلہ کے اشتراک سے اندرون و بیرون ملک آگاہی مہم شروع کرنے کی بھی سفارش کی۔ کمیٹی نے بیرون ملک پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کو پاسپورٹس، شناختی کارڈ، ویزوں کی فراہمی کی سہولیات کو تیز تر بنانے اور وہاں وفات پاجانے والے پاکستانیوں کی لاشوں کو جلد از جلد واپس لانے کے اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔ اویس لغاری کا کہنا تھا کہ پاکستانی سفارتخانوں میں شہریوں کو بروقت اور آرام دہ سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں اور اس صورتحال میں گذشتہ چند سالوں میں مزید خرابی آئی ہے۔ کمیٹی نے گذشتہ دور حکومت میں غیر معمولی تعداد میں جاری کیے گئے سرکاری پاسپورٹوں کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ اویس لغاری نے پاکستانی پاسپورٹ کی عزت کم ہونے پر دفتر خارجہ سے وضاحت بھی طلب کی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی پاسپورٹ کا وقار بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور غیرقانونی طور پر جاری کردہ سرکاری پاسپورٹّوں کو فوری منسوخ کرایا جائے۔ اویس لغاری نے میلان ایکسپو سے پاکستان کی غیر حاضری کا بھی سخت نوٹس لیتے ہوئے دفتر خارجہ کو ہدایت جاری کی کہ اس معاملے پر رپورٹ کمیٹی کو بھجوائی جائے۔کمیٹی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ امن عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی معاملات پر تعاون خوش آئند ہے۔ مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کمیٹی کو امن عمل کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ اویس لغاری کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کو افغان قیادت سے مسلسل رابطے میں رہنا چاہئیے تا کہ دونوں ممالک کے درمیان قائم اعتماد کی فضا برقرار رہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ حکومت کی موجودہ افغان پالیسی چند ماہ میں بہترین نتائج پیش کرے گی۔ کمیٹی نے افغان پارلیمان پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کی۔ دریں اثنا، اراکین کمیٹی نے برما میں روہنگیا مسلمانوں کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔کمیٹی نے مودی کے پاکستان مخالف بیانات پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ چئیرمین اویس لغاری کا کہنا تھا کہ بھارت کی امن دشمن پالیسیوں اور بیانات کو عالمی برادری کے سامنے پیش کیا جانا چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف مودی حکومت کے ضدی اور غیرذمہ دارانہ رویے کے باوجود پاکستان اور جنوبی ایشیا کے امن کے لیے پرعزم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…