بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

گھریلو صارفین کے لیے لوڈشیڈنگ نہیں کی جارہی ہے،وزارت پانی وبجلی

datetime 22  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) ملک کے مختلف حصوں سے بجلی کی عدم فراہمی کی رپورٹیں موصول ہونے کے باوجود حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے صورتحال پر قابو پالیا ہے اور گھریلو صارفین کے لیے ’جبری لوڈشیڈنگ‘ نہیں کی جارہی ہے۔پانی و بجلی کی وزرات کی جانب سے جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں سیکریٹری یونس ڈگھا نے کہا ہے کہ ”ملک بھر میں گھریلو صارفین کے لیے لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی ہے۔“ اس بیان میں ان کا کہنا تھا کہ سولہ کروڑ سے زیادہ شہریوں کو بجلی کی فراہمی بلاتعطل کی جارہی ہے۔یونس ڈگھا نے کہا کہ ہفتے کی طوفانی بارش نے ایران مکران ٹرانسمیشن لائن کے چار پولز کو نقصان پہنچایا تھا، ان کی مرمت کی جارہی تھی۔تاہم راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد اور پنجاب کے دیگر حصوں سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق بہت سے علاقوں میں بجلی کا طویل بریک ڈاون جاری تھا۔شیڈول کے مطابق ملک میں تمام گھریلو فیڈرز سحری سے ایک گھنٹہ قبل اور ڈیڑھ گھنٹے بعد لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ تھے۔ تاہم حکام نے تسلیم کیا کہ بعض علاقوں میں سسٹم میں رکاوٹوں کے باعث لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اتوار کو سسٹم نے اوسطاً 15 ہزار 4 سو میگاواٹ بجلی پیدا ہوئی، جبکہ طلب کے انتہائی اوقات میں یہ پیداوار 16 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی تھی۔حکام کا کہنا تھا کہ افطار، تراویح اور سحری کے اوقات میں صنعتوں کی بندش کو یقینی بنانے کی وجہ سے تمام دستیاب بجلی گھریلوصارفین کو فراہم کی جارہی تھی۔پانی و بجلی کی وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بات کی خصوصی ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ صنعتوں کو بجلی فراہم کرنے والے فیڈروں کو بند کردینا چاہیے تاکہ گھریلو صارفین کو زیادہ سے زیادہ بجلی فراہم کی جاسکے۔اس وزارت کے سیکریٹری مستقل صورتحال کی نگرانی کررہے ہیں اور پانی و بجلی کی وزارت اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے درمیان ایک باقاعدہ وڈیو اور انٹرنیٹ رابطہ موجود ہے۔اس بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ پانی و بجلی ملک بھر کے صارفین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے پر کام کررہی تھی۔ یہاں تک کہ ایسے علاقوں میں بھی جہاں بجلی کا انتہائی زیاں ہوتا ہے، افطار، تراویح اور سحری کے اوقات میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے کوششیں کی جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…