بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

چین نے کرونا وائرس کی ا پنی ویکسین تیار کر لی

datetime 30  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے کرونا وائرس کے خلاف بنائی جانے والی اپنی پہلی ویکسین کے کلینکل تجربات کی اجازت دے دی ہے۔چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ملک بھر میں بڑھتے ہوئے کرونا وائرس کی تعداد کے بعد ان پر قابو پانے کے لیے مہلک بیماری کے خلاف بنائی جانے والی پہلی ویکسین کے کلینکل تجربات کی اجازت دے دی ہے۔ دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق چینی خبر رساں ادارے نے بتایا ہےکہ یہ ویکسین چین کی اکیڈمی آف ملٹری میڈیکل سائنس میں تیار کی گئی ہے۔

اس وقت دنیا کے متعدد ممالک میں کرونا وائرس کے خلاف ادویات تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی کامیاب ویکسین تیار نہیں کی جا سکی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کے حوالے سے پہلی بار امریکا میں ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کا آغاز ہو گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق امریکا میں کرونا وائرس ویکسین کی آزمائش 16 مارچ کو انسانوں پر شروع ہوئی اور یہ تاریخ ساز ہے کیونکہ اتنی تیزی سے کسی ویکسین کا کلینیکل ٹرائل شروع نہیں ہوتا کیونکہ وائرس کا جینیاتی ویکسنس محض 2 ماہ قبل ہی تیار کیا گیا تھا۔تاہم ویکسین کی عام دستیابی میں ابھی کافی وقت درکار ہو گا، فی الحال اس کی آزمائش کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ انسانوں کے لیے محفوظ ہے، اگر محفوظ ثابت ہوئی تو مستقبل قریب میں زیادہ افراد پر اس کا ٹیسٹ کرکے تعین کیا جائے گا کہ کس حد تک انفیکشن کی روک تھام کے لیے موثر ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹس آف ہیلتھ انفیکشز ڈیزیز کے سربراہ انتھونی فیوسی کا کہنا ہے کہ کلینیکل ٹرائل کا دورانیہ کم از کم ایک سال سے 18 ماہ تک ہوسکتا ہے جس کے دوران اس کے محفوظ اور موثر ہونے کا تعین کیا جائے گا۔ اگر یہ منظوری کے مرحلے تک پہنچی تو یہ پہلی ویکسین ہوگی جس کی تیاری کے لیے میسنجر آر این اے (ایم آر این اے) نامی جدید ترین

ٹیکنالوجی استعمال کی گئی،میساچوسٹس سے تعلق رکھنے والی کمپنی موڈرینا نے اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ویکسین کو جلد از جلد یعنی 42 دن میں تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ امریکا کی واشنگٹن ریاست میں 45 افراد پر اس کی آزمائش کا عمل شروع ہوا ہے جن کی عمریں 18 سے 55 سال کے درمیان ہیں اور وہ سب صحت مند ہیں۔اس ویکسین کی تیاری کے لیے وائرس کی نقول کی بجائے کورونا وائرس کی

جینیاتی معلومات کی ضرورت پڑی اور 42 دن میں ویکسین کو ایچ آئی ایچ حکام تک پہنچا دیا گیا۔ کمپنی کے مطابق اس ویکسین کو ایم آر این اے کے ساتھ درست کورونا وائرس پروٹین کے کوڈز سے لوڈ کی گئی ہے جس کو جسم میں انجیکٹ کیا جاتا ہے۔جسم میں جانے کے بعد لمفی نوڈز میں

موجود مدافعتی خلیات ایم آر این اے کو پراسیس کرتے ہیں اور ایسے پروٹین بنانا شروع کردیتے ہیں جو دیگر مدافعتی خلیات کو وائرس کی شناخت اور تباہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ ہماری ویکسین جسم کے لیے کسی سافٹ وئیر پروگرام کی طرح ہے، جو پروٹینز تیار کرکے مدافعتی ردعمل بناتی ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…