ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

حکومتی ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کو جرمانہ اور قید ،پنجاب میں پریوینشن اور کنٹرول آرڈیننس 2020 نافذ

datetime 31  مارچ‬‮  2020 |

لاہور( آن لائن )صوبائی حکومت نے پنجاب انفیکشیئس ڈیزیز (پریوینشن اور کنٹرول) آرڈیننس 2020 نافذ کردیا جس کے تحت سول انتظامیہ اور محکمہ صحت قانون کی معاونت سے وبا کو روکنے کے اقدامات کرسکیں گے۔ آرڈیننس کے تحت بغیر کسی مناسب جواز کے حکومتی ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں پر جرمانہ عائد اور قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

جرمانہ کی رقم 50 ہزار روپے تک جبکہ قید کی مدت 2 ماہ سے زیادہ نہیں ہوگی یا دونوں سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔تاہم اگر کوئی شخص متعدد مرتبہ جرم کا ارتکاب کرے تو اسے 6 ماہ تک کی قید اور ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔آرڈیننس کے مطابق اس قسم کا جرم اگر کوئی ادارہ کرے گا تو پہلی دفعہ کا جرمانہ 50 ہزار روپے سے کم اور 2 لاکھ روپے سے زائد نہیں ہوگا جبکہ متعدد مرتبہ جرم کے ارتکاب پر جرمانے کی رقم ایک لاکھ روپے سے کم اور 3 لاکھ روپے سے زائد نہ ہوگی یا دونوں سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔آرڈیننس کے مطابق ایک فرد جرم کا مرتکب اس وقت قرار پائے گا جب وہ کسی مناسب جواز کے بغیر ہدایات، احکامات پر عمل یا اس پر عائد پابندی کا احترام نہ کرے، یا نابالغ سے متعلق اس پر عائد فرض کی انجام دہی پر ناکام ہوجائے، یا جواز پوچھے جانے پر غلط یا گمراہ کن معلومات فراہم کرے یا کسی ایسے شخص کی راہ میں رکاوٹ حائل کرے جو اپنا اختیار استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہو۔قرنطینہ کے حوالے سے آرڈیننس میں کہا گیا کہ قرنطینہ کیا گیا کوئی شخص اگر فرار ہونے کی کوشش کرے تو پہلی دفعہ جرم پر اسے 6 ماہ تک کی قید یا 50 ہزار روپے کا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

تاہم اگر وہ متعدد مرتبہ جرم کا ارتکاب کرتا ہوا پایا گیا تو 18 ماہ تک کی قید یا ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔آرڈیننس میں کہا گیا کہ پرائمری اور سیکنڈری پیلتھ کیئر ڈپارٹمنٹ کے سیکریٹری وزیراعلی سے مشاورت کے بعد پنجاب کے کسی بھی علاقے میں تمام رجسٹرڈ معالجین اور صحت سہولیات پر ڈیوٹی لگا سکتے ہیں۔اسی طرح حکومت یا ضرورت پڑنے پر بلدیاتی حکومت کے ایک یا ایک سے زائد سرکاری ملازمین اور افسران کو عوام کو لاحق صحت کے خطرات کو کنٹول کرنے اور اس کی نگرانی کی ذمہ داری دے سکتے ہیں۔آرڈیننس میں کہا گیا کہ یہ ایک خاندان کے سربراہ، طبی ماہر یا کوئی ایسا شخص جسے معلوم ہو کہ اس کے زیر نگرانی فرد کسی متعدی بیماری میں مبتلا ہے، ان سب سمیت ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ اس طرح کے کیسز کے بارے میں فوری طور پر میڈیکل افسر کو آگاہ کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…