بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

‘‘کرونا وائرس ہوا میں زندہ نہیں رہ سکتا ‘‘ وائرس ہوا کے ذریعے نہیں بلکہ متاثرہ شخص کے چھینکنے، کھانسنے یا بولنے سے نکلنے والے آبی ذرات کے ذریعے منتقل ہوتا ہے

datetime 30  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او ) بیان کے مطابق کرونا وائرس کسی انسان میں ہوا کے ذریعے نہیں منتقل ہوتا بلکہ یہ متاثرہ شخص کے چھینکنے ، کھانسنے اور بولنے کے دوران منہ سے نکلنے والے آبی ذرات کے ذریعے منتقل ہوتا ہے ۔ جاری پیغام کہا گیا ہے کہ یہ آبی ذرات اتنے بھاری ہوتے ہیں کہ ہوا میں معلق نہیں رہ سکتے اور زمین پر گر جاتے ہیں ،یہ وائرس ایسی جگہوں پر

موجود ہوتا ہےجہاں کسی متاثرہ شخص سے رابطہ رہا ہو ۔ یہ وائرس کسی متاثرہ مریض کا کسی چیز کو چھونے ، چھینکنے کے بعد کسی دوسرے شخص نے وہاں پر ہاتھ لگا کر اپنے منہ پر لگایا ہو تو ایسی صورت میں یہ وائرس پھیل جاتا ہے لہٰذا کسی بھی چیز کو چھونے کے بعد فوراً ہاتھ دھو لیا کریں تاکہ اس مہلک وباء سے بچا جا سکے ۔ قبل ازیں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل ٹیدروس نے کہا ہے کہ کرونا کے خلاف کوئی بھی ملک تنہاجنگ نہیں لڑ سکتا، ویکسین تیار کرنے میں کم از کم ایک سال لگ سکتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے جنیوا میں ویڈیو کانفرنس میں صورتحال کو عالمی المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یاد رکھنا ہو گا کہ دنیا میں ہزاروں افراد اس سے نجات پانےمیں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں طبی عملے کو ضروری سامان پہنچانا ایک سنگین مسئلہ ہے،74 ممالک کو سامان بھیج چکےہیں، مزید60 ممالک میں سامان بھیجنےکی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کرونا کی ویکسین کی تیاری میں12سے18 ماہ لگ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…