بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پنجاب میں کورونا کے مریض سندھ سے زیادہ ہو گئے، عثمان بزدار کی حکمت عملی پر انگلیاں اٹھنے لگیں

datetime 28  مارچ‬‮  2020 |

لاہور( آن لائن )پنجاب 490 کورونا کیسز کے ساتھ سندھ سے آگے آ گیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں میں پنجاب سندھ سے آگے نکل گیا ہے۔ملک بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 1373 ہوگئی ہے , اب تک 11 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جبکہ 23 افراد صحتمند ہوئے ہیں۔۔پنجاب میں کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 490 ہوگئی ہے۔

سندھ میں کورونا وائرس کے 440 مریض ہیں۔خیبرپختونخوا میں 181 ،بلوچستان میں 133،گلگت بلتستان میں 91, اسلام آباد میں 27 اور آزاد کشمیر میں دو افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں کرونا وائرس کے مقامی ٹرانسمیشن کے کیسز کی تعداد بڑھ کر مجموعی کیسز کا 10 فیصد ہوگئی ہے جو خطرناک رجحان ہے۔پنجاب میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کی تعداد نے بھی سوالیہ نشان اٹھا دئیے ہیں کہ آیا پنجاب میں کورونا کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔کہا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کورونا کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ملک کے چاروں صوبوں میں مکمل لاک ڈاون کر دیا گیا تھا جس پر عمل کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے ملک بھر میں فوج تعینات کر دی گئی تھی تا کہ لوگوں کو ان کے گھروں سے نکلنے سے روکا جا سکے۔کورونا وائرس سے بچنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے دور رہیں تا کہ یہ مزید نہ پھیلے۔حکومت کی جانب سے یہ بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر حالات بہتری کی طرف نہیں جاتے تو ہمیں کرفیو کی طرف بھی جانا پڑ سکتا ہے، اسی لئے حکومت کی جانب سے عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ لوگ گھروں میں رہیں اور ایک دوسرے سے ملنے سے اجتناب کریں کیونکہ اسی طرح ہم اس کے پھیلائو کو روک سکتے ہیں۔اس کے علاوہ لاہور میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی سکریننگ کے لئے موبائل یونٹس قائم کر دیئے گئے ہیں جس کے بعد لوگوں کے گھروں میں جا کر ان کی سکریننگ کی جائیگی۔ ابتدائی طور پر 9 موبائل یونٹس قائم کئے گئے ہیں لیکن بعد میں ان کی تعداد 16 کر دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…