پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ملک سے’’عارضی سرمایہ کاری‘‘ کا اخراج کتنے ارب  ڈالر تک جا پہنچا ، رپورٹ جاری کر دی گئی 

datetime 20  مارچ‬‮  2020 |

ملک سے’’عارضی سرمایہ کاری‘‘ کا اخراج کتنے ارب  ڈالر تک جا پہنچا ، رپورٹ جاری کر دی گئی کراچی(آن لائن)غیر ملکی سرمایہ کاروں نے رواں ماہ کے دوران ملک کی مالیاتی مارکیٹ سے ایک ارب 38 کروڑ 80 لاکھ ڈالر سے زائد رقم نکال لی جس میں ایک ارب 28 کروڑ ڈالر کی ‘ہاٹ منی’ یا عارضی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق

عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث ابھرتی ہوئی مارکیٹس سے بڑے پیمانے پر فروخت ہوئیں اور گزشتہ 45 دنوں میں سرمایہ کاروں نے 30 ارب ڈالر کی رقم محفوظ جگہوں خصوصاً کرنسیز میں لگادی۔ رپورٹ کے مطابق ڈالر کے علاوہ تقریباً ہر دوسری چیز پریشان کن فروخت کی وجہ سے تہہ و بالا ہوچکی ہے باوجود اس کے کہ اسٹیٹ بینک پاکستان سمیت دنیا بھر کے مرکزی بینکس ہنگامی اقدامات کا اعلان کرچکے ہیں جس کے تحت پاکستان میں شرح سود 75 بیسز پوائنٹس کم کردی گئیں۔ملک میں غیر ملکی سرمایہ کار یکم مارچ سے اب تک 7 کروڑ 56 لاکھ 45 ہزار ڈالر مالیاتی مارکیٹس سے نکال چکے ہیں۔اس میں ایک ارب 28 کروڑ ڈالر ٹریڑری بلز(ٹی-بلز) اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز سے نکالنے گئے 3 کروڑ 32 لاکھ 82 ہزار ڈالر شامل ہیں جس سے ابتدائی 20 دنوں کے درمیان نکلنے والی خالص رقم منفی ایک ارب 35 کروڑ ڈالر ہوگئی۔دوسری جانب رواں مالی سال کے دوران ٹریڑری بلز سے نکلنے والی مجموعی ‘ہاٹ منی’ یا عارضی سرمایہ کاری 3 ارب 43 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ذرائع نے ان آؤٹ فلوز یعنی سرمایہ کاری نکالے جانے کا ذمہ دار کرنسی مارکیٹ میں بڑے پیمانے پرہونے والے اتار چڑھاؤ کو ٹھہرایا جیسا کہ 9 مارچ کو برطانوی پاؤنڈ 206 روپے 34 پیسے میں دستیاب تھا جبکہ یکم مارچ کو اس کی قیمت 197 روپے 90 پیسے تھی۔قبل ازیں رواں ہفتے اسٹیٹ بینک پاکستان نے کورونا وائرس کے باعث مشکلات دور کرنے کے لیے ایک کھرب 5 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا تھا۔پالیسی اسٹیٹمنٹ دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا تھا کہ مالیاتی مارکیٹس میں فروخت کی صورتحال کے

ذمہ دار بیرونی عناصر ہیں جو پاکستان کے لیے کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔واضح رہے کہ تمام ابھرتی ہوئی مارکیٹس سے رقم کے بہاؤ کی صورتحال اسی طرح کی ہے بشمول بھارت کہ جہاں غیرملکی پورٹ فولیو کے حامل سرمایہ کار مارچ میں اسٹاک اور بانڈز سے 8 ارب 50 کروڑ ڈالر تک نکال چکے ہیں۔اس دوران سرمایہ کار کرنسی مارکیٹس بالخصوص ڈالر کی جانب متوجہ ہوچکے ہیں، یوں کرنسی مارکیٹس میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے عجیب و غریب رجحان پائے جانے کے بعد گزشتہ روزبلوم برگ ڈالر انڈیکس اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…