پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

افغان پارلیمان کی مدت میں غیر معینہ توسیع

datetime 21  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)افغان صدر اشرف غنی نے ملک میں جاری سیاسی رسہ کشی اور بروقت عام انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے موجودہ پارلیمان کی آئینی مدت میں غیر معینہ عرصے تک کے لیے توسیع کر دی ہے۔کابل سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ہندوکش کی اس ریاست میں عام انتخابات کا وقت پر انعقاد اب تک سیاسی اختلافات اور سکیورٹی کی غیر تسلی بخش صورت حال کی وجہ سے مسلسل تاخیر کا شکار ہوتا آیا ہے۔ کابل حکومت کا مسئلہ یہ تھا موجودہ ملکی پارلیمان کی پانچ سالہ آئینی مدت بائیس جون پیر کے روز ختم ہو رہی تھی۔اب تک نئے پارلیمانی انتخابات نہ کرائے جا سکنے کے باعث یہ بات یقینی تھی کہ اگر موجودہ پارلیمان کی مدت پوری ہو گئی اور نئی پارلیمان وجود میں نہ آئی تو افغانستان کو سیاسی مشکلات کے علاوہ پارلیمانی جمہوری حوالے سے شرمندگی کا سبب بننے والے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔اس پس منظر میں صدر اشرف غنی نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے موجودہ پارلیمان کی آئینی مدت میں اس وقت تک کے لیے غیر معینہ توسیع کردی جب تک کہ ملک میں نئے عام انتخابات کے بعد ایک نئی قومی پارلیمان وجود میں نہیں آ جاتی۔معمول کے مطابق افغانستان میں نئے عام الیکشن اس سال اپریل میں ہو جانا چاہیے تھے لیکن گزشتہ برس ہونے والے صدارتی الیکشن کے متنازعہ ہو جانے اور پھر کئی مہینوں بعد نکالے جانے والے مصالحتی حل کے بعد ملک میں ابھی تک اس بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا کہ اگلے پارلیمانی انتخابات کے منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انعقاد کو یقینی کیسے بنایا جائے۔ اس کے علاوہ الیکشن میں مسلسل تاخیر کی وجہ داخلی سلامتی کی خراب صورت حال کی وجہ سے پیدا ہونے والے شدید خدشات بھی بنے۔موجودہ پارلیمان کی آئینی مدت میں غیر معینہ عرصے تک کی توسیع کے بارے میں کابل میں صدر اشرف غنی کے دفتر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ملکی عدلیہ، پارلیمان اور انتظامیہ کی باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔ صدارتی دفتر کے مطابق نئے پارلیمانی الیکشن کی تاریخ کا اعلان ایک ماہ کے اندر اندر کر دیا جائے گا۔،گزشتہ برس ہونے والے صدارتی الیکشن میں دونوں بڑے امیدواروں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی طرف سے ایک دوسرے پر دھاندلی کے شدید الزامات لگائے گئے تھے۔ دونوں ہی امیدواروں نے اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کر دیے تھے اور نتیجہ کئی ماہ تک جاری رہنے والے سیاسی تنازعے کی صورت میں نکلا تھا۔اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے مابین ہونے والے معاہدے کے مطابق اگلی مرتبہ عام الیکشن سے قبل انتخابی اصلاحات بھی متعارف کرائی جانا تھیں لیکن اب تک اس بارے میں بہت ہی کم پیش رفت ہو سکی ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ صدر غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ کے مابین ابھی تک اس حوالے سے بھی گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کو ممکن بنانے والے قومی کمیشن کی سربراہی کس کو کرنی چاہیے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…