اسلام آباد (نیوزڈیسک)افغان صدر اشرف غنی نے ملک میں جاری سیاسی رسہ کشی اور بروقت عام انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے موجودہ پارلیمان کی آئینی مدت میں غیر معینہ عرصے تک کے لیے توسیع کر دی ہے۔کابل سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ہندوکش کی اس ریاست میں عام انتخابات کا وقت پر انعقاد اب تک سیاسی اختلافات اور سکیورٹی کی غیر تسلی بخش صورت حال کی وجہ سے مسلسل تاخیر کا شکار ہوتا آیا ہے۔ کابل حکومت کا مسئلہ یہ تھا موجودہ ملکی پارلیمان کی پانچ سالہ آئینی مدت بائیس جون پیر کے روز ختم ہو رہی تھی۔اب تک نئے پارلیمانی انتخابات نہ کرائے جا سکنے کے باعث یہ بات یقینی تھی کہ اگر موجودہ پارلیمان کی مدت پوری ہو گئی اور نئی پارلیمان وجود میں نہ آئی تو افغانستان کو سیاسی مشکلات کے علاوہ پارلیمانی جمہوری حوالے سے شرمندگی کا سبب بننے والے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔اس پس منظر میں صدر اشرف غنی نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے موجودہ پارلیمان کی آئینی مدت میں اس وقت تک کے لیے غیر معینہ توسیع کردی جب تک کہ ملک میں نئے عام انتخابات کے بعد ایک نئی قومی پارلیمان وجود میں نہیں آ جاتی۔معمول کے مطابق افغانستان میں نئے عام الیکشن اس سال اپریل میں ہو جانا چاہیے تھے لیکن گزشتہ برس ہونے والے صدارتی الیکشن کے متنازعہ ہو جانے اور پھر کئی مہینوں بعد نکالے جانے والے مصالحتی حل کے بعد ملک میں ابھی تک اس بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا کہ اگلے پارلیمانی انتخابات کے منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انعقاد کو یقینی کیسے بنایا جائے۔ اس کے علاوہ الیکشن میں مسلسل تاخیر کی وجہ داخلی سلامتی کی خراب صورت حال کی وجہ سے پیدا ہونے والے شدید خدشات بھی بنے۔موجودہ پارلیمان کی آئینی مدت میں غیر معینہ عرصے تک کی توسیع کے بارے میں کابل میں صدر اشرف غنی کے دفتر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ملکی عدلیہ، پارلیمان اور انتظامیہ کی باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔ صدارتی دفتر کے مطابق نئے پارلیمانی الیکشن کی تاریخ کا اعلان ایک ماہ کے اندر اندر کر دیا جائے گا۔،گزشتہ برس ہونے والے صدارتی الیکشن میں دونوں بڑے امیدواروں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی طرف سے ایک دوسرے پر دھاندلی کے شدید الزامات لگائے گئے تھے۔ دونوں ہی امیدواروں نے اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کر دیے تھے اور نتیجہ کئی ماہ تک جاری رہنے والے سیاسی تنازعے کی صورت میں نکلا تھا۔اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے مابین ہونے والے معاہدے کے مطابق اگلی مرتبہ عام الیکشن سے قبل انتخابی اصلاحات بھی متعارف کرائی جانا تھیں لیکن اب تک اس بارے میں بہت ہی کم پیش رفت ہو سکی ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ صدر غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ کے مابین ابھی تک اس حوالے سے بھی گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کو ممکن بنانے والے قومی کمیشن کی سربراہی کس کو کرنی چاہیے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
کورونا بوسٹر ویکسین لگوانے والوں کیلئے اہم خبر ، سائنسدانوں کا بڑا انکشاف
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک
-
بجلی کے یونٹ پر سیلز ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ
-
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
4 اگست کو سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان
-
دانتوں کے کیڑے سے بچاؤ کا مؤثر اور آسان طریقہ سامنے آگیا
-
متحدہ عرب امارات نے محدود مدت کیلئے بڑی سہولت دے دی
-
55 سالہ شخص کی 2 کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی
-
ہاتھ ملانے پر پابندی، بھارتی ویمن کھلاڑی فاطمہ ثناء کے گلے لگ گئیں، ویڈیو وائرل
-
جامعات اور کالجز میں دو روزہ تعطیل کا فیصلہ
-
اگست سے اکتوبر تک ملک میں معمول سے کم بارشوں اور زیادہ گرمی کی پیشگوئی
-
رشتے کے تنازع پر مخالفین کی گھر میں فائرنگ، 3 بھائی جاں بحق, بچہ زخمی
-
گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
’دشمن بھی خاندانی ہونا چاہیے‘، ثاقب چدھڑ کا عروبہ مرزا کو کرارا جواب



















































