پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

نیب اختیارات کا غلط استعمال گورننس اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کرپشن کو سب سے بڑی برائی قرار دے دیا

datetime 7  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے فور جی لائسنس میں مبینہ کرپشن سے متعلق کیس میں اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ نیب اختیارات کا غلط استعمال گورننس اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فور جی لائسنس میں مبینہ کرپشن سے متعلق کیس میں پی ٹی اے کے ڈی جی عبدالصمد اور ڈائریکٹر امجد مصطفی کی ضمانت منظوری کا 56 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ہے۔

فیصلے پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب کے دستخط ہیں۔عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں نیب کے ملزمان کی گرفتاری کے اختیارات پر اہم سوال اٹھا دیے ہیں، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن سب سے بڑی برائی ہے جس نے ملک کو کھوکھلا کر دیا، کرپشن نے معاشی ترقی اور قانون کی حکمرانی کو بری طرح متاثر کیا، کرپشن سے غیرملکی سرمایہ کاروں کی بھی حوصلہ شکنی ہورہی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کرپشن کی لعنت سے چھٹکارے کے لیے بلا تفریق احتساب ضروری ہے، نیب ایسا ادارہ بنے کہ کرپٹ اس سے ڈریں اور عام لوگوں کا اس پر اعتبار ہو، وائٹ کالر کرائم سے نمٹنے کے لیے تفتیشی افسران کی پیشہ ورانہ تربیت بھی لازم ہے، تفتیشی افسر ملزم کی حاضری یقینی بنانے کے لیے مناسب پابندی عائد کرسکتا ہے تاہم گرفتاری کے صوابدیدی اختیارات کا بے جا استعمال عوامی مفاد کے لیے نقصان دہ ہے، نیب اختیارات کا غلط استعمال گورننس اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسفند یار ولی کیس میں سپریم کورٹ بھی گرفتاری سے متعلق اختیارات کی تشریح کر چکی ہے کہ جرم میں ملوث ہونے کے ناکافی شواہد کی عدم موجودگی پر گرفتار نہیں کیا جا سکتا، گرفتاری سے پہلے نیب کے پاس ٹھوس شواہد ہونا لازمی ہیں، نیب کے پاس ایسے شواہد ہونے لازم ہیں جو ملزم کا جرم سے بادی النظر میں تعلق جوڑیں، نیب کے پاس شواہد ہونے چاہئیں کہ ملزم کی نیت مالی یا ذاتی فوائد لینے کی تھی ، ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی میں اس کی گرفتاری اختیار کا غلط استعمال ہے،انہیں منفی اثرات کو دور کرنے کے لیے نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…