منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

ووہان بندرگاہ سمیت 3 چینی جہاز کارگو لے کر کراچی کیلئے روانہ، بغیر کورنٹائن کے لنگر انداز ہونے سے شدید نقصان کا اندیشہ، کرونا وائرس پھیلنے کا شدید خطرہ

datetime 4  مارچ‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور دنیا کے 60 سے زائد ممالک اس سلسلے میں حفاظتی تدابیراختیار کررہے ہیں،کرونا وائرس کی ہی وجہ سے چائنا سے فی الحال اجناس، کیمیکلز سمیت تمام سامان کی پاکستان میں امپورٹ متوقع خطرے کے سبب بند ہے لیکن چائنا کے سب سے متاثر شہر ووہان کی بندرگاہ سے

دوبحری جہازوں سمیت مجموعی طور پر چائنا سے تین جہازمختلف اقسام کی کھاد لے کررواں ماہ مارچ میں ہی کراچی بندرگاہ پہنچ رہے ہیں اور ان جہازوں کی آمد سے کراچی سمیت پاکستان بھر میں کرونا وائرس پھیلنے کے خدشات لاحق ہے۔بندرگاہ کے باوثوق ذرائع کے مطابق چائنا کے شہرووہان کی بندرگاہ زین جیانگ(Zhen Jiang)سے ایک بحری جہازAmber-L45ہزار میٹرک ٹن ڈی اے پی کھاد لے کر15مارچ کوکراچی بندرگاہ پہنچ رہا ہے اس جہاز میں گزشتہ ماہ فروری کے اختتام پر کھاد کی لوڈنگ کی گئی تھی جب ووہان میں کرونا وائرس عروج پر تھا۔ذرائع کے مطابق دوسرا جہازDD Glory 25ہزار میٹرک ٹن ڈی اے پی کھاد لے کر رواں ماہ کے اختتام پر کراچی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگا،اس جہاز میں بھی کارگو چائنا کے سب سے متاثر شہر ووہان کی بندرگاہ سے لوڈ کیا جارہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چائنا سے ہی آنے والا تیسرا جہازVTC Glory جو کہ 17یا18مارچ کو کراچی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگا،اس جہاز میں 20ہزار میٹرک ٹن ایمونیم سلفیٹ موجود ہے،یہ تینوں جہاز بغیر کسی چھان بین اورکورنٹائن کے بغیر کراچی بندرگاہ پہنچ گئے توکرونا وائرس مشکلات سے دوچار کرسکتا ہے۔بندرگاہ سے موصولہ ذرائع کے مطابق بھارت کی بندرگاہ “پرادیپ”پر لنگر انداز ہونے والے ایک بحری جہاز پر سوارتمام23افراد کروناوائرس کا شکار قرار پائے یعنی انکے جب ٹیسٹ کئے گئے تو کرونا وائرس مثبت آیا جس کے بعد جہاز کا یہ تمام عملہ اڑیسہ،بھارت کے ہسپتال میں زیر علاج ہے،

بھارت کی بندرگاہ پرادیپ پر پہنچنے والا یہ جہاز10فروری کو چائنا کی بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا اور15فروری کو ساؤتھ کوریا کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہونے کے بعد 25فروری کو سنگاپور سے ہوتا ہوا29فروری کو بھارت پہنچا تھا۔کراچی بندرگاہ میں کام کرنے والے بعض اہم شخصیات کے مطابق چائنا سے کارگو لے کر پاکستان کیلئے روانہ ہونے والے تینوں جہازکی رواں ماہ آمدکی اطلاعات پر لوگ خوفزدہ ہیں اور ان میں تشویش لاحق ہوگئی ہے کہ اگر یہ تینوں جہاز بغیرکورنٹائن کے

کراچی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوئے تو کرونا وائرس کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔شپنگ سیکٹر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت میری ٹائم افیئرز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جو بھی جہاز چائنا سے کارگو لے کر پاکستان آئے تو اسکی سخت نگرانی کی جائے تاکہ بند مہں شہریوں اور بندرگاہ پر کام کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔واضح رہے کہ دنیا بھر میں دوسرے ممالک سے آنے والے مسافروں کو بھی مسلسل 14 روزکورنٹائن میں گزارنے کی ہدایات دی گئی ہیں تاکہ یہ دیکھا جائے کہ ان میں کورونا وائرس کی کوئی علامت تو نہیں ہے،اطمینان کے بعد انہیں داخلے کی اجازت ہوگی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…