منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

یہ لائیں گے پاکستان میں انقلاب۔۔!! مولانا فضل الرحمان کا قریبی ساتھی کس شرمناک کام میں ملوث نکلا؟ پاکستانی غصے سے آگ بگولہ

datetime 3  مارچ‬‮  2020 |

اسلا م آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پروفیسر صلاح الدین کو طالبات ہراسگی کیس میں گرفتار کر لیا ۔ بتایا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے انتہائی قریبی ساتھی گریڈ 21کا آفیسر پروفیسر صلاح الدین کو نجی ٹی وی اینکر اقرار الحسن نے اپنی ٹیم سمیت رنگے ہاتھو ں پکڑ لیا ۔ تفصیلات کے مطابق اے آر وائے نیوز کی سر عام کی ٹیم نے ڈیرہ اسماعیل خان میں گومل یونیورسٹی پر چھاپہ مارا جہاں پر پروفیسر صلاح الدین طالبات کو

ہراساں کرنے کا مکروہ کاملوث پروفیسر کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے اور جیل بھی پہنچا دیا گیا ہے ۔ پروفیسر صلاح الدین طالبات کو ہراساں کرنے کیلئے انہیں نمبر کم کرنے کی دھمکیاں دیتا اور خواتین استاتذہ سے دست درازی بھی کرتا تھا ۔ ملزم کیخلاف جنسی ہراسگی کی مسلسل شکایات کی جارہی تھیں لیکن کوئی گریڈ 21کے آفیسر کیخلاف کاروائی کرنے کیلئے تیار نہ تھا ، ملزم کافی اثر و رسوخ کا مالک تھا اور مولانا فضل الرحمان کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں اس کا شمار ہوتا تھا ۔ اقرار الحسن کے مطابق پروفیسر کے خلاف متعدد انکوائریاں چل چکی تھیں اس کے باوجود یہ اپنے عہدے پر برقرار تھے، ہم نے ملزم کے خلاف اسٹنگ آپریشن کیا اور اس میں ان کی اصلیت سامنے آئی۔ملزم کا کہنا تھا کہ اسٹنگ آپریشن کے دوران ایک لڑکی کو بھیجا گیا جسے پروفیسر نے ہراساں کرنے کی کوشش کی جس کے تمام ثبوت ویڈیو میں ریکارڈ کر لیے گئے جس کے بعد ملزم نے اپنا اقرار جرم بھی کیا ۔ دوسری جانب گومل یونیورسٹی کے مستعفی پروفیسر صلاح الدین کو گرفتار کیا جا چکا ہے انہیں کینٹ پولیس نے گرفتار کیا ۔واضح رہے کہ پروفیسر صلاح الدین کے کیخلاف کئی انکوائریاں چل رہی تھیں لیکن سیاسی اثرو رسوخ کی بنیاد پر وہ ہمیشہ بچتا رہا ہے لیکن اقرار الحسن کے ہاتھوں سے وہ نہ بچ سکا اور گندی ویڈیو جب اسے دکھائی گئیں تو مستعفی ہونے پر مجبور ہو گیا اور بعد ازاں اسے گرفتار کر لیا گیا ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…