منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

22 سال تک خدمت کے بعد لگتا ہے بھارت میں رہنے کامجھے کوئی حق نہیں،ریٹائرڈ بھارتی فوجی مسلمانوں پر ظلم و ستم کیخلاف پھٹ پڑا

datetime 3  مارچ‬‮  2020 |

نئی دہلی ( آن لائن )دہلی فسادات میں گھر سے بے گھر ہونے والے بھارتی ریٹائرڈ فوجی عایش محمد کا کہنا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ مجھے بھارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ہونے والے فسادات کے دوران کئی مسلمان اپنی جان کی بازی ہار گئے اور کئی افراد زخمی ہوئے۔

اِسی دوران ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں کی بستیاں بھی تباہ و برباد کردیں جس کے نتیجے میں لاتعداد مسلمان اپنے گھروں سے بے گھر ہوگئے ہیں۔دہلی فسادات میں بے گھر ہونے والے مسلمانوں میں سے ایک مسلمان وہ بھی ہے جس نے اپنی زندگی کے 22 سال بھارت کی خدمت میں گزارے اور اْس کا گھر بھی اِس ہندو توا دہشتگردی کا شکار ہوگیا ہے۔بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق عایش محمد نامی 58 سالہ ریٹائرڈ سپاہی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’اْس کا گھر بھاگیرتی وہار کے علاقے کے قریب میں ہی تھا جس کو کچھ ہندو انتہا پسندوں نے 25 فروری کو جلا دیا۔عایش محمد نے بتایا کہ ’25 فروری کو 2 سو سے 3 سو بد معاش علاقے میں آئے گولیاں چلائیں، پتھرائو کیا اور پھر میرے گھر کو آگ لگا دی۔‘بھارتی ریٹائرڈ سپاہی نے بتایا کہ ’جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اْس وقت میں اپنے 26 سالہ بیٹے کے ساتھ گھر میں موجود تھا جب ہندو انتہا پسندوں نے ہمارے گھرمیں آگ لگائی تو میں اور میرا بیٹا گھر کی چھت پر بھاگے اور پڑوسیوں کے گھر میں چھلانگ لگا دی۔‘اْنہوں نے بتایا کہ ’26 مارچ کو میری بھانجی کی شادی ہونی ہے اور اْس کا زیور بھی گھر میں رکھا ہوا تھا اور وہ بد معاش میری بھانجی کا زیور بھی لوٹ کر لے گئے۔‘عایش محمد نے بتایا کہ ’اب چونکہ اْس کا گھر جل چکا ہے اور اْس کے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے تو اْس نے اپنی اہلیہ کو اپنے دونوں بیٹوں کے ہمراہ اپنے آبائی گاؤں بھیج دیا ہے جبکہ وہ خود دہلی میں لگے امدادی کیمپ میں رہنے پر مجبور ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…