منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

شادی میں شرکت کے لئے آیا ہوا شخص امیر زادے کی کار ریسنگ کی بھینٹ چڑھ گیا، انتہائی افسوسناک واقعہ

datetime 28  فروری‬‮  2020 |

میرپور خاص (این این آئی) شادی میں شرکت کے لئے آیا ہوا شخص امیر زادے کی کار ریسنگ کی بھینٹ چڑھ گیا۔مقامی شادی ہال کے باہر ڈرفٹنگ کرتی تیز رفتار کار نے محمد شریف شیخ کو روند ڈالا۔ مبینہ ملزم راحم رئیس خان اپنے دوست طلحہ عامرخان کے ہمراہ زخمی کو سول اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب۔ پولیس ایف آئی آر درج کرنے میں پس و پیش سے کام لیتی رہی۔ باراتیوں نے مقدمہ کے اندراج کے بغیر واپس جانے سے انکار کردیا۔

بالآخر پولیس نے کار تحویل میں لے کر ملزم راحم رئیس خان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ ذرائع کے مطابق ملزم راحم رئیس خان روٹری انٹرنیشنل پاکستان کے موجودہ گورنر کا بیٹا اور سیاسی شخصیت انیس احمد خان ایڈوکیٹ کا بھتیجا ہے۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ شب شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے آئے ہوئے حیدرآباد کے رہائشی محمد شریف شیخ کوڈرفٹنگ کرتی تیز رفتار کار نے روند ڈالا جس سے محمد شریف شیخ مو قع پر ہی جاں بحق ہوگیا جبکہ کار ڈرائیور راحم رئیس خان اپنے دوست طلحہ عامر خان کے ہمراہ محمد شریف شیخ کو سول اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوگیا۔عینی شاہدین کے مطابق وقوعہ کے وقت راحم رئیس خان نے ہیڈ فون لگا رکھا تھا اور کار خطرناک حد تک تیز رفتاری سے ڈرفٹنگ کرتی محمد شریف شیخ کو روندتی چلی گئی جس سے محمد رئیس کو سر میں شدید چوٹیں آئیں اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ مقامی پولیس سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے مقدمہ کے اندراج میں پس و پیش سے کام لیتی رہی جس پر باراتیوں نے مقدمے کے اندراج کے بغیر واپس جانے سے انکار کردیا۔بعدازاں رات گئے محمد معراج شیخ کی مدعیت میں زیر دفعہ 279اور 320 PPCکے تحت ملزم راحم رئیس خان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ذرائع کے مطابق راحم رئیس خان، روٹری انٹرنیشنل پاکستان کے گورنر رئیس احمد خان کا بیٹا اور سیاسی شخصیت انیس احمد خان ایڈوکیٹ کا بھتیجا ہے جبکہ طلحہ عامر خان ان کے قریبی رشتہ دار واپڈا کے ملازم محمد عامر کا بیٹا ہے۔

وقوعہ کے فوری بعد گورنر روٹری انٹرنیشنل پاکستان اپنے اہلخانہ اور ملزم راحم رئیس خان کے ہمراہ کراچی روانہ ہوگئے۔ذرائع کے مطابق ملزم راحم رئیس خان گذشتہ دنوں سیٹلائیٹ ٹاؤن تھانے کی حدود میں ہونے والی اغواء کی واردات میں ملوث کراچی سے گرفتار ہونے والے نوجوان جبران کا مبینہ طور پر مرکزی سہولتکار تھا لیکن لاکھوں روپے رشوت کے عوض راحم رئیس خان کا نام مقدمہ سے نکال دیا گیا۔ محمد معراج شیخ اور دیگر ورثاء نے وزیر اعظم،چیف آف آرمی اسٹاف، چیف جسٹس سپریم کورٹ، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ،گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ پولیس، ڈی آئی جی پولیس اور ایس ایس پی میرپورخاص سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈرفٹنگ اور کارریسنگ سمیت دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث امیر زادے راحم رئیس خان کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…