منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کو 72 سالہ پرانی قرارداد چھوڑ کر یہ کرنے کا کہیں، چوہدری شجاعت حسین نے حیرت انگیز بات کر دی

datetime 26  فروری‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چاہئے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی بجائے مصالحتی کردار ادا کریں، مسئلہ کشمیر حل کروائیں اور کشمیریوں پر مظالم بند کروائیں۔ وہ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق کے ساتھ ملاقات میں گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی، چودھری سالک حسین ایم این اے،

سینیٹر کامل علی آغا، میاں عمران مسعود، ڈاکٹر عمر عادل، نسیم طاہر، ذوالفقار گھمن اور آمنہ الفت بھی موجود تھیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ کامیاب کردار ادا کرنے کی صورت میں، میں یقین سے کہتا ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اگلا صدارتی الیکشن باآسانی جیت سکتے ہیں اور اقوام متحدہ کو کشمیر پر قرارداد چھوڑ کر دوسرے آپشن پر آمادہ کر سکتے ہیں جو خودمختار کشمیر کی شکل میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کو کہیں کہ 72 سالہ پرانی قرارداد کو چھوڑ کر دوسری آپشن پر غور کریں اب تو اس قرارداد کی سیاہی بھی مٹ چکی ہے تو ٹرمپ کو دنیا بھر میں زیادہ پذیرائی ملے گی، مسلمانوں اور کشمیریوں میں انہیں مقبولیت حاصل ہو گی اور جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا حصول اور قریب ہو جائے گا۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ یہ دوسرا فارمولا ہی مسئلہ کشمیر کا واحد حل ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے لیبیا کے لیڈر مرحوم کرنل قذافی کے ساتھ اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معمر قذافی نے انہیں یہ پیشکش کی تھی کہ وہ خود آ کر دونوں ممالک کے مابین مسئلہ کشمیر حل کروا سکتے ہیں اور نئی خودمختار مملکت کشمیر کو ابتدائی مالی امداد بھی مہیا کر سکتے ہیں، جب واپس آ کر میں نے دوسروں سے مشورہ کیا تو زیادہ تر افراد نے میری مخالفت کی اور مجھے چپ رہنے کا کہا لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ انسانی حقوق کیلئے آگے بڑھ کر آواز بلند کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کل جس طرح مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے وہ تمام دنیا کے سامنے ہے،

نصف شب کشمیر میں معصوم اور نابالغ لڑکیوں کو جبراً ان کے گھروں سے اٹھا کر فوجی بیرکوں میں لے جایا جاتا ہے اور ان کی اجتماعی عصمت دری کرنے کے بعد انہیں طلوع صبح سے پہلے واپس گھر چھوڑ دیا جاتا ہے، یہ ایسا قبیح فعل ہے جس پر ان بچیوں کے ماں باپ اپنی بدنامی کی وجہ سے نہ آواز اٹھا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی سے بات کر سکتے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ اگر 1971ء میں بنگلہ دیش قائم کیا جا سکتا ہے تو کشمیر آزاد اور خود مختار کیوں نہیں بنایا جا سکتا، خصوصاً جب کشمیر میں بنگلہ دیش سے بھی بدتر حالات ہیں اور کشمیریوں کی ظالمانہ نسل کشی ہو رہی ہے، اقوام متحدہ کی کشمیر قرارداد کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ کشمیر میں ان بے دریغ مظالم کے باوجود اقوام متحدہ ابھی تک خاموش ہے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کو مشورہ دیا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر وہ دلیرانہ اور غیر مقبول فیصلے کریں اس کیلئے ان کو اقتدار ہی ہاتھ کیوں نہ دھونا پڑیں مگر اب میں یہ سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات کے تناظر میں کشمیر کی خودمختاری ایک دلیرانہ اور مقبول فیصلہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جو نئی آپشن پر عملدرآمد کروائے اس کا نام تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ رہے گا۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں بہت اچھی تقریر کی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی تقریر میں خودمختار کشمیر بنانے کی بھی تجویز دے دیتے یا کسی دوسرے آپشن پر غور کرنے کا مشورہ دے دیتے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…