جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

کسی صورت رہاہونے نہیں دے گے ، نیب نے شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کی ضمانتیں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا

datetime 25  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (آن لائن) چیئرمین نیب کی زیرصدارت اجلاس ہوا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کی ضمانتیں چیلنج کر نے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔ نیب ضمانتوں کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرے گی، جبکہ وفاقی کابینہ نے بھی دونوں لیگی رہنماؤں کی ضمانتیں چیلنج کرنے پراتفاق کیا ہے ۔ چیئرمین نیب کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی

اور احسن اقبال کی ضمانتوں پر قانون مشاورت کی گئی ۔ قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نارووال اسپورٹس کمپلیکس میں خرد برد کے الزام میں گرفتار سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کی ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا ہے کیس کی سماعت جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس لبنی پرویز پر مشتمل ڈویڑن بینچ نے کی دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ سے تین سوالوں کے جواب پوچھے احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیوں کیا گیا؟اب تفتیش مکمل ہوگئی تو احسن اقبال اور شاہد خاقان کو مزید جیل میں کیوں رکھا جائے؟لوگوں نے احسن اقبال، شاہد خاقان کو ووٹ دیا ان کو نمائندگی سے کیسے محروم کیا جاسکتا ہے؟ جن ووٹرز نے احسن اقبال، شاہد خاقان کو ووٹ دیا ان کو کس بات کی سزا ہے ؟ کیا کوئی عوامی نمائندہ فرار ہوسکتا ہے؟ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کہتی ہے کہ آپ تفتیش ضرور کریں لیکن سزا نہیں دے سکتے بین الاقوامی سطح پر دہشتگردی جیسے ملزم کی آزادی کو بھی سلب نہیں کیا جاتا برطانوی عدالتوں نے مشتبہ شخص پر 12 شرائط عائد کیں لیکن آزادی سے محروم نہیں کیانیب تفتیشی افسر بھی کسی ملزم پر 30 شرائط لگاسکتا ہے نیب تفتیشی افسر ملزمان کو کہے کہ روزانہ مجھے فون کریں صرف تفتیش کے لیے ملزم کو گرفتار کرنا

تفتیشی افسر کی نااہلی کو ظاہر کرتا ہیاگر ملزمان کے خلاف مقدمہ ثابت ہوتا ہے تو وہ بے گناہ نہیں ؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے جواب دیا کہ مقدمات زیر سماعت ہیں اب تک ہم ملزمان کو بے گناہ ہی کہیں گے جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ ملزمان جن کی نمائندگی کررہے کیا انہیں اس سے محروم کیا جاسکتا جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ملزمان عوامی نمائندے ہیں تو

انہیں حق نمائندگی سے محروم نہیں کیا جاسکتا ملزم کی گرفتاری کے لیے سب سے بنیادی اختیارات پولیس کے پاس ہیں پولیس قابل دست اندازی جرم پر کسی بھی مشتبہ شخص کو گرفتار کرسکتی ہے نیب انکوائری یا انوسٹی گیشن کے لیے ملزم کو گرفتار کرسکتا ہے جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے جواب دیا کہ نیب قانون میں صرف انکوائری یا انوسٹی گیشن کے لیے گرفتاری کا اختیار دیا گیااس موقع پر عدالت نے

استفسار کیا کہ کیا تحقیقات کے بغیر بھی نیب کسی ملزم کو گرفتار کرسکتا ہے ؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ نیب صرف تحقیقات کے لیے اور فرار کے خدشے کے پیش نظر گرفتار کرتا ہیچیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیب کا احتساب اس وقت موثر ہوگا جب شہریوں کا ادارے پر اعتماد ہوگا نیب کی جانب سے کیس کی پیروی جہانزیب بھروانہ اور سردار مظفر عباسی جبکہ احسن اقبال کی طرف سے بیرسٹر ظفراللہ طارق جہانگیری اور بیرسٹر اشترواوصاف نے کی عدالت نے احسن اقبال کی ایک کروڑ روپے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…