جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

ملک پر حکمران نہیں بلکہ عجلت میں لایا گیا ناتجربہ کاروں کا ٹولہ مسلط ہے، حکمران طبقہ کو حماقتوں سے فرصت نہیں، بس ایک دھکے کی ضرورت ہے، انتہائی دھماکہ خیز اعلان کر دیا گیا

datetime 22  فروری‬‮  2020 |

سوراب(آن لائن)جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ ملک پر حکمران نہیں بلکہ عجلت میں لایا گیا ناتجربہ کاروں کا ایک ٹولہ مسلط ہے جن کی نااہلی کا خمیازہ ملک اور قوم بھگت رہی ہے،معیشت کا جنازہ نکالنے والے اب انڈے اور مرغی کے زریعے اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کریں گے،عوام تاریخ کی بدترین مہنگائی کا سامنا کررہی ہے جبکہ حکمران طبقہ کوحماقتوں سے فرصت نہیں،

ناموس رسالت کے تحفظ اور ملک کے مفاد کے لئے میدان میں نکلے ہیں کسی صورت پیچھے ہٹنے والے نہیں، ہماری تحریک رائیگاں نہیں جائے گی آزادی مارچ کی ثمرات بہت جلد سامنے آئیں گے آج بھی اعلانیہ کہتے ہیں کہ اس ناجائز حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، آرٹیکل 6 لاگو کرنے والے شوق پورا تو کرلیں پھر قوم دیکھے گی کہ آئین کو روندنے والے کون ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب سوراب کے صدرشبیراحمدلہڑی سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کیا، مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ ملک پر موجودہ مسلط ٹولہ سے متعلق جن خدشات کا اظہار ہم نے پہلے دن کیا تھاوہ اب پوری قوم کا بیانیہ بن چکا ہے ان کی نااہلی کی وجہ سے معیشت تباہ جبکہ ہوش ربا مہنگائی کے ہاتھوں لوگ خودکشی پر مجبورہیں، جن کے دور میں حج جیسے مقدس فریضے کی ادائیگی ساڑھے پانچ لاکھ میں ہو جائے تو وہ کس منہ سے ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں؟ ملک کی بدحال معیشت میں بہتری اب انڈے اور مرغی تقسیم کرنے سے نہیں بلکہ مستحکم اور سنجیدہ پالیسیوں سے آئے گی جو ان غیر سنجیدہ حکمرانوں کی بس کی بات نہیں، معاشی اعتبار سے ملک تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہاہے، جس کی ذمہ دار موجودہ نالائق حکمرانوں کی غلط پالیسیاں ہیں،ہم پہلے دن سے یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدے پارلیمنٹ میں لانے چاہئیں، عوام کو طفل تسلی دینے والوں کے دعووں اور ان کی کارکردگی کی حقیقت یہ ہے کہ کہ ان کی ناقص پالیسیوں کی بدولت صرف پچھلے سال میں 10کروڑ افراد سطح غربت سے نیچے جا چکے ہیں۔

اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے،۔ حکومت کے غیر دانشمندانہ اور ڈنگ ٹپاو اقدامات کی بدولت عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اس صورتحال میں انہیں مزید برداشت کرنا تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے، ہماری تحریک نہ صرف مضبوط بلکہ موثر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، آزادی مارچ سے سلیکٹڈ حکمرانوں کی بنیادی ہل چکی ہیں اب صرف گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکے کی ضرورت ہے جس کا لائحہ عمل بھی طے ہوچکا ہے ان شااللہ قوم کواس نالائق طبقے سے نجات دلاکر دم لیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…